ہوتی۔ اسی طرح دُنیا پر اس قسم کے زمانے آتے رہتے ہیں کہ کبھی رُوحانی طور پر رات ہوئی ہے اور کبھی سلوعِآفتاب ہو کر نیا دن چڑھتا ہے؛ چنانچہ پچھلا ایک ہزار جو گذرا ہے، رُوحانی طور پرایک تاریک رات تھی جس کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیج اعوج رکھا ہے۔ خدا تعالیٰ کا یہ ایک دن ہے جیسا کہ فرماتا ہے ۔ ان یو ما عندربک کالف سنۃمما تعدون (حج: ۴۸) اس ہزار سال میں دنیا پر ایک خطرناک ظُلمت کی چادر چھائی ہوئی تھی۔ جس مین ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت کو ایک باپاک کیچڑ میں ڈالنے کے لیے پوری تدبیروں اور مّاریوں اور حیلہ جوئیوں سے کام لیا گیا ہے اور خود ان لوگوں میں ہر قسم کے شِرک اور بدعات ہوگئے جو مُسلمان کہلاتے تھے، مگر اس گروہ کی تسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ لیسو امنی ولست منہم۔ یعنی نہ وہ مجھ سے ہیں اور نہ میں اُن سے ہوں۔ غرض جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا یہ ہزار سالہ رات تھی جو گذر گئی۔ اب خدا تعالیٰ نے تقا ضا فرمایا کہ دُنیاکو روشنی سے حصّہ دے اس شخص کو جو حصّہ لے سکے، کیونکہ ہر ایک اس قابل نہیں ہے کہ اس سے حصّہ لے چنانچہ اُس نے مجھے اس صدی پر مامُور کر کے بھیجا ہے، تا کہ میں اسلامؔ کو زندہ کروں۔ جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پُورے طور پر اور اصلی معنوں میں کامیاب نہ ہوسکے کیونکہ وہ بہتوں کو مخلص نہ بنا سکے ۔ ذرا سی غیر حاضری میں قوم بگڑ گئی باوجودیکہ ہارُونؑ ابھی ان میں موجود تھے۔ اور قوم نے گو سالہ پرستی اختیار کی اور ساری عمر قسم قسم کے شکوک و شبہات پیش کرتے رہے۔ کبھی بھی انشراح قلب کے ساتھ ساری قوم باوجود بہت سے نشانوں کے دیکھنے کے مخلص نہ ہوسکی۔ اور ایسے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ناکام رہے۔ یہانتک کہ حواری بھی جیسا کہ انجیلؔ میں لکھا ہے۔ بگڑ گئے اور بعض مرتد ہو کر لعنتیں کرنے لگے۔ فقیہ اور فریسی جو موسیٰ کی گدّی پر بیٹھنے والے تھے اُن کو نصیب نہ ہوا کہ اس آسمانی نُور سے حصّہ لیتے اور ان سچّائی کی باتوں کو جو حضرت مسیح علیہ السلام لے کر آئے تھے، قبول کرتے اور توجہ سے سُنتے۔ اگر چہ کہا جائے گا کہ ان کو بہت سی مشکلات پیش آئیں۔ جو مسیح کی علامتوں اور نشانات کے متعلق پیشگوئیوں کے رنگ میں تھیں۔ لیکن اگر توجہ کرتے اور رشید ہوتے اور ان کو قوتُ حاسّہ ملی ہوتی، تو ضرور فائدہ اِٹھالیتے اور زور دیکر مشکلات سے نکل جائے۔ ان اُمور اور واقعات پر نگاہ کرنے سے طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کا مختصر جواب یہی ہے کہ انسان اپنے ہی حربہ سے ہلاک ہوتا ہے۔ جو لوگ توجہ نہیں کرتے اور اس کے وجود کو بے سُود اور فضول قرار دیتے ہیں اور اس کی پاکیزہ باتوں پر کوئی غور نہیں کرتے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ وُہ محروم رہ جاتے ہیں۔جیسا میں نے شروع میں کہا تھا کہ توجہ اور غور سے سُننا چاہیے اور جو لوگ توجہ اور غور سے نہیں سُنتے وہ ایسے ہی لوگ ہو تے ہیں۔ جو کان رکھتے ہوئے نہیں سنتے۔اسی طرح پر میں اب یُوں کہتا ہوں کہ