قومی اور ملکی تعلقات کو قطع کرنے کے لیے آمادہ ہوئے۔ نہ صرف آمادہ بلکہ انہوں نے قطع کر کے اور اپنی جانوں کو دے کر دکھا دیا کہ وہ آپؐ کے ساتھ کس خلوص اور ارادت سے ہوئے تھے۔ بظاہر آپ کے پاس کوئی مال ودولت نہ تھا جو ایک دُنیا دار انسان کے لیے تحریص اور ترغیب کا موجب ہو سکے۔ خود آپ نے ہی یتیمی میں پرورش پائی تھی تو وہ اوروں کو کیا دکھا سکتے تھے۔
انبیاء کو حقؔ اور کششؔ دی جاتی ہے میں کہتا ہوں کہ بیشک آپؐ کے پاس کوئی مال و دولت اور دنیوی تحریص وترغیب کا ذریعہ نہ تھا اور ہر گز نہ تھا، لیکن آپؐ کے پاس وہ زبردست چیزیں جو حقیقی اور اصلی، موثر اور جاذب ہیںتھیں۔ وہی اُنھوں نے پیش کیں اور انھون نے ہی دُنیا کو آپؐ کی طرف کھینچا۔ وہ تھیں حق اور کشش۔ یہ دو چیزیں ہی ہوتی ہیں۔ جن کو انبیاء علیہم السلام لے کر آتے ہیں۔ جبتک یہ دوتوں موجود نہ ہوں انسان کسی ایک سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور نہ پہنچا سکتا ہے۔ حق ہو کشش نہ ہو کیا حاصل؟کشش ہو لیکن حق نہ ہو۔ اس سے کیا فائدہ؟ بہت سے لوگ ایسے دیکھے گئے ہیں اور دنیا میں موجود ہیں کہ اُن کی زبان پرحق ہوتا ہے، مگر دیکھا گیا ہے کہ وہ حق مفید اور موثر ثابت نہیں ہوتا۔کیوں؟ وُہ حق صرف اُن کی زبان پر ہے اور دل اس سے آشنا نہیں اور وُہ کشش جو دل کی قبولیّت کے بعد پیدا ہوتی ہے اُس کے پاس نہیں ہے۔ اس لیے وُہ جو کچھ کہتا ہے جس اوپرے دل سے کہتا ہے اسی طرح پر اُس کا اثر ہوتا ہے۔
سچّی کشش، حقیقی جذب اور واقعی تاثیر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اس حق کو جسے وہ بیان کرتا ہے، نہ صرف آپ قبول کرے، بلکہ اس پر عمل کر کے اس کے چمکتے ہوئے نتائج اور خواص کو اپنے اندر رکھتا ہو۔ جبتک انسان خود سچّا ایمان ان اُمور پر جو وہ بیان کرتا ہے، نہیں رکھتا اور سچّے ایمان کے اثر یعنی اعمال سے نہیں دکھاتا۔ وہ ہر گز ہرگز سوثر اور مفید نہیں ہوتے۔ وُہ باتیں صرف بدبُودار ہونٹوں سے نکلتی ہیں جو دوسروں کے کان تک پہنچنے میں اور بھی بدبودار ہو جاتی ہیں، بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ ظالم وسفاک حق کا یُوں بھی خُون کرتے ہیں کہ چونکہ اس کے برکات اور درخشاں ثمرات اُن کے ساتھ نہیں ہوتے اس لئے سننے والے محض خیالی اور فرضی باتیں سمجھ کر ان کی پرواہ بھی نہیں کرتے اور یُوں دوسروں کو محروم کر دیتے ہیں۔
غرض یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ وہ شخص جو دُنیا کی اصلاح اور بہتری کا مدّعی ہے جبتک اپنے ساتھ حق اور کشش نہ رکھتا ہو کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتا اور وُہ لوگ جو توجہ اور غور سے اسکی بات کو نہیں سُنتے وہ اُن سے بھی فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔ جو کشش اورحق بھی رکھتے ہوں۔
رُوحانی رات اور دن جیسا کہ اﷲ تعالیٰ کا قانونِ قدرت ہے کہ رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات آتی ہے اور اس قانونِ قدرت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں