۲۷ ؍دسمبر۱۹۰۱ء بعد از نمازِعصر
تقریر
مامور من اللہ کی باتیں توجّہ سے سننی چاہئیں سب کو متوجہ ہو کر سننا چاہئے اور پورے غوراور فکر کے ساتھ سنو ،کیونکہ یہ معاملہ ایمان کا معاملہ ہے ۔اس میں غفلت اور سستی اور عدم توجہ بہت برے نتیجے پیدا کرتی ہے ۔جو لوگ ایمان میں غفلت سے کام لیتے ہیںا ورجب ان کو مخاطب کر کے کچھ بیان کیا جاوے ،تو غور سے اس کو نہیں سنتے ہیں۔ ان کو بو لنے والیکے بیان سے خواہ وہ کیسا ہی اعلیٰ درجہ کا مفید اور مؤثر کیوں نہ ہو کچھ بھی فائدہ نہیں ہوتا۔ ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جن کی بابت کہا جاتا ہے کہ وہ کان رکھتے ہیں، مگر سُنتے نہیں۔ دل رکھتے ہیں پر سمجھتے نہیں۔ پس یاد رکھو کہ جو کچھ بیان کیا جاوے اُسے توجہ اور بڑی غور سے سُنو۔ کیونکہ جو توجہ سے نہیں سُنتا ہے وہ خواہ عرصہ دراز تک فائدہ رساں وجود کی صُحبت میں رہے اُسے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔
جب خدا تعالیٰ انبیاء علیہم السلام کو دنیا میں مامُور کر کے بھیجتا ہے تو اس وقت دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وُہ جو اُن کی باتوں پر توجہ کرتے اور کان دھرتے ہیں اور جو کچھ وہ کہتے ہیں اُسے پُورے غور سے سنتے ہیں۔ یہ فریق وہ ہوتا ہے جو فائدہ اٹھاتا ہے اور سچّی نیکی اور اس کے برکات وثمرات کو پالیتا ہے۔ دُوسرا فریق وُہ ہوتا ہے جو اُن کی باتوں کو توجہ اور غور سے سُننا تو ایک طرف رہا۔ اُن پر ہنسی کرتے اور اُن کو دُکھ دینے کے لیے منصوبے سوچتے اور کوششیں کرتے ہیں۔
ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مبعوث ہوئے تو اس وقت بھی اسی قاعدہ کے موافق دو فریق تھے۔ ایک وُہ جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو سُنا اور پُورے غور سے سُنا اور پھر آپؐ کی باتوں سے ایسے متاثر ہوئے اور آپؐ پر ایسے فدا ہوئے کہ والدین اور اولاد۔احبّاء اور اعزّہ غرض دُنیا میں جوچیز انہیں عزیز ترین ہوسکتی تھی۔اس پر آپؐ کے وجود کو مقدم کر لیا۔ اچھّے بھلے آرام سے بیٹھے تھے۔ برادری کے تعلقات اور احباب کے تعلڈات سے اپنے خیال کے موافق لُطف اُٹھارہے تھے۔ مگر اس پاک وجود کے ساتھ تعلّق پیدا کرتے ہی وُہ سارے رشتے اور تعلّق اُن کو چھوڑ نے پڑے اور اُن سے الگ ہونے میں اُنہوں نے ذرا بھی تکلیف محسوس نہ کی، بلکہ راحت اور خوشی سمجھی۔ اب غور کرنا چاہیے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ کیا چیز تھی؟ جن سے ان لوگوں کو اپنا ایسا گرویدہ بنا لیا کہ وہ اپنی جانیں دینے کے لیے تیار ہو گئے۔ اپنے تمام دنیوی مفاد اور منافع اور تمام