بات ہے کہ خدا ہو کر اس کے واسطے مُنہ سے ایک لفظ بھی پیشگوئی کا نہ نکلا، بلکہ چاہیے تھا کہ وصیّت نامہ لِکھ دیتے کہ پولوس اس مذہب کا جمعدار کیا جاوے گا اور جب یہ نہیں تو پھر اس کو کیا حق حاصل تھا کہ وہ خود بخود مجتہد بن بیٹھا۔ اس کو یہ سارڑیفیکیٹ ملا کہان سے تھا؟ یہی وجہ ہے کہ یہ یسوعی مذہب نہیں بلکہ پولُوسی ایجاد ہے، غرض صدق اور اخلاص بڑی نعمت ہے جس کو خدا دے۔ مختصر یہ کہ خُدا بہتر جانتا ہے اور مَیں حلفاً کہتا ہوں کہ میں تو اپنے دشمن کا بھی سب سے بڑح کر خیر خواہ ہوں۔ کوئی میری باتوں کو سُنے بھی۔ یہ جو کچھ میں نے کہا ہے۔ آپ اس پر غور کریں اور اس پر جو کچھ باقی رہ جاوے اُسے بیان کریں۔
[ حضرت اقدسؑ نے اپنی تقریر کو اس مقام پر ختم کر دیا تھا کہ خاکسار ایڈیٹر الحکم نے عرض کی کہ مِسٹر عبد الحق صاحب نے اپنی تقریر میں عماد الدین کے حوالہ سے ایک بات تثلیث کے ثبوت میں کہی ہے کہ وضُو کرتے وقت تین دفعہ ہاتھ دھوتے ہیں۔ یہ تثلیث کا نشان ہے۔ اس پر بھی کچھ فرمایا جاوے۔] فرمایا:
’’یہ تو بالکل بیہودہ اور کچی باتیں ہیں۔ اس طرح پر ثبوت دینا چاہو تو جتنے مرضی ہو خدا بنا لو۔ عمادؔالدین کی اِن باتوں پر پادری رجبؔ علی نے ایک ریویو لکھا تھا اور اس نے بڑا واویلا کیا تھا کہ ایسی باتوں سے عیسائیت کی توہین ہوتی ہے؛ چونکہ وُہ کچھ ظریف طبع تھا کہ عمادؔالدین سے تثلیث کے ثبوت میں یہ بات رہ گئی اور پھر ایسی مثال دی جو قابلِ ذکر نہیں۔
اس نے لکھا کہ عمادؔالدین بالکل ایک آدمی تھا۔ میں نے اُس کو اُردو کی عبارت کا مطلب بیان کرنے ہی کی دعوت کی تھی، جس کا جواب نہ دے سکا۔ اور ’’نورالحق‘‘ کا جواب آجتک نہ ہوا؛ حالانکہ پانچ ہزار روپیہ انعام بھی تھا۔ ایسی باتیں تو پیش کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ دیکھو آخر مرنا ہے۔ خدا سے ڈرنا چاہیے۔ دین کے معاملہ میں بڑی غوروفکردرکارہے اورپھرخداکافضل ‘‘۔؎ٰ
اس نے لکھا کہ عمادؔالدین بالکل ایک آدمی تھا۔ میں نے اُس کو اُردو کی عبارت کا مطلب بیان کرنے ہی کی دعوت کی تھی، جس کا جواب نہ دے سکا۔ اور ’’نورالحق‘‘ کا جواب آجتک نہ ہوا؛ حالانکہ پانچ ہزار روپیہ انعام بھی تھا۔ ایسی باتیں تو پیش کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ دیکھو آخر مرنا ہے۔ خدا سے ڈرنا چاہیے۔ دین کے معاملہ میں بڑی غوروفکردرکارہے اورپھرخداکافضل ‘‘۔؎ٰ