ہی مرا۔ اس کے واسطے یہودیوں کو لکھا تھا اور اُن سے دریافت کیا تھا اوراصل وارث تو یہودی ہی ہیں کہ جو ہمیشہ نبیوں سے تعلیم پاتے چلے آئے تھے۔ انہی کا حق تو ہے کہ وہ اس کی صحیح تفسیر کریں اور خود مسیح نے بھی فقیہوں اور فریسیوں کی بات ماننے کا حکم دیا ہے گو اُن کے عمل سے منع کیا ہو۔ عیسائیوں اور یہودیوں میں اختلاف یہ ہے۔ اوّل الذکر ان سے ابنیّت اور الُوہیّت نکالتے ہیں اور آخر الذکر کہتے ہیں پُوری ہو چکی ہیں۔ انصاف کی رُو سے وہی حق پر ہیں۔ جنھوں نے ہمیشہ نبیوں سے تعلیم پائی اور ان باتوں کی تجدید سے ایمان تازہ کیے اور برابر چودہ سو برس تک خدا کی باتیں سُنتے آئے تھے۔ حضرت مسیح موسیٰ علیہ السلام سے چودہ سو سال بعد یعنی چودھویں صدی میں آئے تھے اور جیسے اس زمانہ میں مسیح دیا گیاتھا۔ کہ تا موسوی جنگوں کے اعتراض کو اپنی تعلیم سے دُور کر دے اور خاتمہ جنگ و جدال پر نہ ہو۔ ویسے ہی اس اُمّت کے لیے مثیل موسیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء میں سے چودھویں صدی پر مسیح موعود مبعوث کیا گیا تا اپنی پاک تعلیم کے ذریعہ جہاد کے غلط خیال کی اصلاح کر دے اور ثابت کر دے کہ اسلامؔ تلوار سے ہرگز نہیں پھیلایا گیا ،بلکہ اسلام اپنے حقائق اور معارف کی وجہ سے پھیلا ہے۔ غرض یہودی پیشگوئیوں کی بحث میں غالب آجائیں گے اور حق اُن کے ساتھ ہے۔ اور یہ دیکھا بھی گیا ہے کہ یہودی معقول بات کہتے ہیں۔ جیسے ایلیا کے بارے میں اُنھوں نے کہا ہے اور ایسا ہی اس بارے میں اُن کے ہاتھ میں سہادتوں کا ایک زرّیں سلسلہ ہے۔ اور اگر کوئی چاہے تو اُن کی کتابیں اب بھی منگوا کر دکھا سکتے ہیں۔ یہی میں نے سراجؔالدین کو بھی کہا تھا۔ دیکھو انسان ایک برتن کو لیتا ہے تو اسے بھی دیکھ بھال کر لیتا ہے۔ پھر ایمان کے معاملہ میں اتنی لا پراوائی کیوں کی جاتی ہے؟ پس یہ پیشگوئیاں تو یُوں رَدّ ہوئیں۔ اب باقی رہے انجیل کے اقوال تو سب سے پہلے تو ہم یہ کہتے ہیں کہ جب اصل انجیل ہی اُن کے ہاتھ میں نہیں ہے تو کیوں یہ امر قرین قیاس نہ مانا جائے کہ اس میں تحریف کی گئی ہے، کیونکہ مسیح اور اس کی ماں کی زبان عبرانی تھی۔ جس مُلک میں رہتے تھے۔ وہاں عبرانی بولی جاتی تھی۔ صلیب کی آخری ساعت میں مسیح کے مُنہ جو کچھ نِکلا وہ عبرانی تھا۔ یعنی۔ایلی ایلی لما سبقتانی۔ اب بتائو کہ جب اصل انجیل ہی کا پتہ مذارد ہے، تو اس ترجمہ پر کیا دوسرے کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ کہے اصل انجیل پیش کرو۔ اس صورت میںتو عیسائی یہودیوں سے بھی گِر گئے، کیونکہ انہوں نے اپنی اصل کتاب کو تو گم نہیں کیا۔ پھر انجیل میںمسیح نے کہا ہے کہ ’’میری انجیل‘‘ اب اسن لفظ پر غور کرنے سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ اصل مسوّدہ انجیل کا کوئی مسیحؑ نے بھی لکھا ہو اور یہ تو نبی کا فرض ہوتا ہے کہ وہ خدا کی وحی کو محفوظ کرے اور اس کی حفاظت کا کام دُوسروں پر نہ ڈالے کہ وّہ جو چاہیں سو لکھ لیں۔ پولوسؔ کی بابت میں پہلے کہہ آیا ہوں کہ جس کی تحریروں یا تقریروں پر اپنی خدائی کا نحصار تھا۔ تعجّب ک