رنگ میں ڈال دیا۔مین کہتا ہوں کہ عیسائی مذہب کی خرابی اور اس کی بدعتوں کا اصل باتی یہی شخص ہے اور اس کے سوا میں کہتا ہوں کہ اگر یہ شخص ایسا ہی عظیم الشان تھا اور واقعی یُسوع کا رسول تھا اور اس قدر انقلابِ عظیم کا موجب ہونے والا تھا کہ خطرناک مخالفت کے بعد پھر یُسوع کا رُسول ہونے کو تھا تو ہمیں دکھائو کہ اس کی بابت کہاں پیشگوئی کی گئی ہے کہ ان صفات والا ایک شخص ہوگا اور اُس کا نام ونشان دیا ہو اور یہ بھی بتایا ہو کہ وُہ یُسوع کی خدائی ثابت کریگا؛ ورنہ یہ کیا اندھیر ہے کہ پطرس کے لعنت کرنے اور یہودا اسکریوطی کے گرفتار کرانے کی پیشگوئی تو یُسوع صاحب کر دیں اور اتنے بڑے عیسوی مذہب کے مجتہد کا کچھ بھی ذکر نہ ہو۔
اِس لیے اس شخص کی کوئی بات بھی قابلِ سند نہیں ہوسکتی ہے اور جو کچھ اس نے کہا ہے وہ کون سے دلائل ہیں۔ وہ بجائے خود نرے دعوے ہی دعوے ہیں۔ میں بار بار یہی کہتا ہوں اور اس لیا مکرّر سہ مکرر اس بات کو بیان کرتا ہوں کہ آپ سمجھ لیں کہ انجیل ہی کو یسُوع کی خدائی کے ردّ کرنے کے لیے آپ پڑھیں۔ وہ خود ہی کافی طور پر اس کی تردید کر رہی ہے۔ اگر وُہ خدا تھا تو کیوں اس نے بالکل نرالی طرز کے معجزات نہ دکھائے۔ میں نے تحقیق کر لیا ہے کہ اُن کے معجزات کی حقیقت سلبِ امراض سے کچھ بھی بڑھی ہوئی نہ تھی۔ جس میں آجکل یورپ کے مسمریزم کرنے والے اور ہندو اور دُوسرے لوگ بھی مشّاق ہیں اور خیالات ایسے بیہودہ اور سطحی تھے کہ صرع کے مریض کو کہتا ہے کہ اس میں جِنّ گھُسا ہوا ہے؛ حالانکہ اگر صرع کے مریض کو کونینؔ، کچلہؔ،فولادؔ دیں اور اندر دماغ میں رسولی نہ ہو تو وُہ اچھّا ہو جاتا ہے۔ بھلا جِنّ کو مرگی سے کیا تعلّق۔ چونکہ یہودیوں کے خیالات ایسے ہو گئے تھے۔ ان کی تقلید پر اِس نے بھی ایسا ہی کہہ دیا۔ اور یا یہ کہ جیسے آجکل جادُو ٹونے کر نیوالے کرتے ہیں کہ بعض ادویات کی سیاہی سے تعویذ لکھ کر علاج کرتے ہیں اور بیماری کو جِنّ بتاتے ہیں۔ ویسے ہی اس نے کہہ دیا ہو۔ مجھے افسوس ہے کہ مسیح کے معجزات کو مُسلمانوں نے بھی غور سے نہیں دیکھا اور عیسائیوں کی دیکھا دیکھی اور اُن سے سُن سُن کر اُن کے معنے غلط کر لیے ہیں۔ مثلاً اکمہؔ وہ مرض ہے کہ جس کا علاج بکرے کی کلیجی کھانا بھی ہے اور اس سے بھی یہ اچھّے ہو جاتے ہیں۔
یُسوع کی عاجزی یسُوع ضُعفؔ، ناتوانیؔ، بیکسیؔ اور نامرادیؔ کی سچّی تصویر ہے اور عام کمزوریوں میں انسانوں کا شریک ہے ۔ کوئی امر خاص اس میں پایا نہیں جاتا۔ کُتب سابقہ کی پیشگوئیوں کا جو ذخیرہ پیش کیا جاتا ہے۔ ان میں صدہا اختلاف ہے۔ اوّل تو خود یہودیوں میں اُن کے وہ معنی ہی نہیں جو عیسائی کرتے ہیں۔ اور دوسرے ان تفسیروں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وُہ پوری ہو چکی ئی ہیں۔ ایک شخص عرصہ ہوا میرے پاس آیا تھا۔آخرخدا نے اس پراپنا فضل کیا اور وہ مُسلمان ہو گیا اور مُسلمان