دیکھو اگر کوئی شخص کسی حاکم کے سامنے کھڑا ہوا اور اس کا کچھ اسباب متفرق طور پر پڑا ہو تو یہ کبھی جرأت نہیں کرے گا کہ اسباب کا کوئی حصہ چرا لے خواہ چوری کے کیسے ہی قوی محرک ہوں اور وہ کیسا ہی بد عادت کا مبتلا ہو، مگر اس وقت اس کی ساری قوتوں اور طاقتوں پر ایک موت وارد ہو جائے گی اور اسے ہرگز جرأت نہ ہو سکے گی اور اس طرح پر وہ چوری سے ضرور بچ جائے گا اس طرح پر ہر قسم کے خطا کاروں اور شریروں کا حال ہے کہ جب انہيں ایسی قوت کا پورا علم ہو جاتا ہے جو ان کی شرارت پر سزا دینے کے لئے قادر ہے تو وہ جذبات ان کے دب جاتے ہیں یہی سچا طریق گناہ سے بچنے کا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ پر کامل یقین پیدا کرے اور اس کے جزا و سزا دینے کی قوت پر معرفت حاصل کرے ۔ یہ نمونہیہی سچا طریق گناہ سے بچنے کا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ پر کامل یقین پیدا کرے اورا سکے جزا و سزا دینے کی قوت پر معرفت حاصل کرے ۔ یہ نمونہ گناہ سے بچنے کے طریق کے متعلق خدا نے ہماری فطرت میں رکھا ہوا ہے اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس اصول کو آپ کے سامنے پیش کر دوں۔ کیا عجب آپ کو فائدہ پہنچے اور چونکہ آپ سفر کرتے رہتے ہیں اور مختلف آدمیوں سے ملنے کا آپ کو اتفاق ہوتا آپ ان سے اسے ذکر بھی کر سکتے ہیںاور اگر یہ طریق جو میں پیش کرتا ہوں آپ کے نزدیک صحیح نہیں ہے تو میں آپ کو اجازت دیتا ہوں کہ آپ جس قدر چاہیں جرح کریں یہ میری طرف سے آپ کو ایک تحفہ ہے۔ اور میں ایسے تحفے دے سکتا ہوں۔ ہر شخص جو دنیا میں آتا ہے اس کا فرض ہونا چاہئے کہ دھوکے اور خطرہ سے بچے پس گناہ کے نیچے ایک خطرناک اور تمام خطروں اور دھوکوںسے بڑھ کرایک دھوکاہے۔میں آگاہ کرتا ہوں کہ اس سے بچنا چاہئے اور یہ بھی بتاتا ہوں کہ کیونکر اور اگرچہ اس سے پہلے ایک اور مسئلہ بھی ہے جو خدا کی ہستی کے متعلق ہے مگر میں سردست اس کو چھوڑتا ہوںاور اس دوسرے مقصد کو لیتا ہوں جس کا ماحصل اور مدعا یہ ہے کہ ہر ایک آدمی بجائے خود نیک بننا چاہتا ہے اور نیکی کو اچھا سمجھتا ہے اختلاف اگر ہے تو ان طریقوں اور حیلوں میں ہے جو نیکی کے حصول کے لئے اختیار کئے جاتے ہیں مگر مشترک طور پر نفس نیکی کو سب پسند کرتے ہیں اور چاہتے ہیں ۔جھوت بولنا کون پسند کرتا ہے جذبات نفسانی سے بچنے کو سب اچھا کہتے ہیں مگر ہم دیکھتے ہیں کہ باوجودبدیوں کو سمجھنے کے بھی ایک دنیا ان میں گرفتار ہے اور گناہ کے سیلاب میں بہتی ہوئی جا رہی ہے میں مثال کے طورپر کہتا ہوں کہ عیسائیوں نے انسان کو گنہ گار زندگی کو ہلاک کرکے نیکی اور پاکیزگی کے حصول کے لئے یہ راہ بتائی ہے کہ مسیح ہمارے لئے مر گیا اور ہمارے گناہوں کا بوجھ اس نے اٹھا لیا اور اس کے خون سے ہم پاک ہو گئے مگر میں دیکھتا ہوں کہ اور آپ کو بھی اقرار کرنا پڑے گا کہ مسیح کے خون نے یورپ کی حالت پر کوئی نمایاں اثر اور تبدیلی پیدا نہیں کی بلکہ ان کی اخلاقی اور روحانی حالتوں پر نظر کرکے سخت افسوس ہوتا ہے ان کی زندگی مرتاضانہ زندگی نہیں ہے بلکہ ایک آزادی اور اباحت کی زندگی ہے کتنے ہی جو سرے سے خدا