سے ایک نیا معاملہ شروع ہوجاتا ہے اور اس میں تبدلی ہونے لگتی ہے ان اللہ مع الذین اتقوا (الخل:۱۲۹)خدا ان کے ساتھ ہے جو متقی ہوتے ہیں۔یادرکھنا چاہیے کہ قرآن شریف میں تقوی کا لفظ بہت مرتبہ آیا ہے۔اس کے معنے پہلے لفظ سے کیے جاتے ہیں۔یہاں مع کا لفظ آیا ہے یعنی جو خداکو مقدم سمجھتا ہے،خدا اس کو مقدم رکھتا ہے اور دنیا میں ہر قسم کی ذلتوں سے بچالیتا ہے۔ میراایمان یہی ہے کہ اگر انسان دنیا میں ہر قسم کی ذلت اور سختی سے بچنا چاہے تو اس کے لیے ایک ہی راہ ہے کہ متقی بن جائے۔پھر اس کو کسی چیز کی کمی نہیں۔پس مومن کی کامیابیاںاس کو آگے لے جاتی ہیںاور وہ وہیںٹھہر جاتا۔
مبارک وہ ہے کامیابی اور خوشی کے وقت تقوی سے کام لے
اکثرلوگوںکے حا لات کتابوں میںلکھے ہیں کہ اوائل میں دنیا سے تعلق رکھتے تھے اور شدید تعلق رکھتے تھے،لیکن انہوں نے کوئی دعا کی اور وہ قبول ہو گئی۔اس کے بعد ان کی حالت ہی بدل گئی،اس لیے اپنی دعاؤںکی قبولیت اور کامیابیوںپر نازاںنہ ہو،بلکہ خدا کے فضل اور عنایت کی قدر کرو۔قاعدہ ہے کہ کامیابی پر ہمت اور حوصلہ میں ایک نئی زندگی آجاتی ،اس زندگی سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اس سے اللہ تعالی کے فضل وکرم پر غور کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ اللہ تعالی کے فضل کو کوئی روک نہیںسکتا۔
بہت تنگدستی بھی انسان کو مصیبت میں ڈال دیتی ہے۔اس لیے حدیث میں آیا ہے الفقرسواد الوجہ۔ ایسے لوگ میں نے خود دیکھے ہیں،جو اپنی تنگدستیوں کی وجہ سے دہریہ ہوگئے ہیں۔مگر مومن تنگی پر بھی خداسے بدگمان نہیںہوتا اور اس کو اپنی غلطیوںکا نتیجہ قراردے کر اس سے رحم اورفضل کی درخواست کرتا ہے اور جب وہ زمانہ گزر جاتا ہے اور اس کی دعائیںبارور ہوتی ہیں،تو وہ اس عاجزی کے زمانہ کو بھولتا نہیں بلکہ اسے یادرکھتا ہے۔غرض اگراس پر ایمان ہے کہ اللہ تعالی سے کام پڑنا ہے،تو تقوی کا طریق اختیار کرو۔مبارک وہ ہے جو کامیابی اور خوشی کے وقت رقوی اختیار کرلے اور بد قسمت وہ ہے جو ٹھوکر کھا کر اس کی طرف نہ جھکے۔ ؎۱