آدمی ہلاک بھی ہو جاتے ہیں۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ عام زندگی اور موت تو ایک آسان امر ہے،لیکن جہنمی زندگی اور موت دشوار ترین چیز ہے۔سعید آدمی ناکامی کے بعد کامیاب ہو کر اور بھی سعید ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ پر ایمان بڑھ جات ہے۔اس کو ایک مزہ آتا ہے ۔ جب وہ گور کرتا ہے کہ میرا خدا کیسا ہے۔اور دنیا کی کامیابی خدا شناسی کا ایک بہانی ہو جاتا ہے۔ایسے آدمی کے لیے یہ دنیوی کامیابیاں حقیقی کامیابی کا(جس کواسلامکی اصلاح میںفلاح کہتے ہیں)ایک ذریعہ ہو جاتی ہیں۔میںتمھیںسچ سچ کہتا ہوںکہ سچی راحت دنیا اور دنیا کی چیزوںمیںہرگز نہیںہے۔حقیقت یہی ہے کہ دنیا کے تمام شعبے دیکھ کر بھی انسان سچا اور دائمی سرور حاصل نہیںکر سکتا۔تم دیکھتے ہوکہ دولتمندزیادہ مال ودولت رکھنے والے ہر وقت خنداںرہتے ہیں،مگر ان کی حالت جرب یعنی خارش کے مریض کی سی ہوتی ہے۔جس کو کھجلانیسے راحت ملتی ہے،لیکن س خارش کا آخری نیتجہ کیا ہوتاہے؟یہی کہ خون نکل آتا ہے۔پس ان دنیوی اور عارضی کامیابیوں پر اس قدر خوش مت ہو کہ حقیقی کامیابی سے دور چلے جائو،بلکہ ان کامیابیوںکو خدا شناسی کا ایک ذریعہقراردو۔اپنی ہمت اور کوشش پر نازمت کرواور مت سمجھو کہ یہ کامیابی ہماری کسی قابلیت اور محنت کا نتیجہ ہے،بلکہ یہ سوچوکہ اس رحیم خدا نے جوکبھی کسی کی سچی محنت کو ضائع نہیں کرتا ہے۔ہماری محنت کو بارورکیا ؛ورنہ کیا تم نہیںدیکھتے کہ صدہاطالب علم آئے دن امتحانوں میں فیل ہوتے ہیں۔کیا وہ سب کے سب محنت نہ کرنے والے اور بالکل غبی اور بلیدہی ہوتے ہیں؟نہیںبلکہ بعض ایسے ذکی اور ہوشیار ہوتے ہیںکہ پاس ہونے والوں میںسے اکثر کے مقابلہ میں ہوشیارہوتے ہیں۔اس لیے واجب اور ضروری ہے کہ ہر کامیابی پر مومن خداتعالی کے حضور سجدات شکر بجالائے کہ اس نے محنت کو اکارت تو نہیںجانے سیا۔اس شکر کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اللہ تعالیسے محبت بڑ ھے گی اور ایمان میںترقی ہوگی اور نہ صرف یہی بلکہ اور بھی کامیابیاںملیں گی،کیونکہ خداتعالی فرماتا ہے کہ اگر تم میری نعمتوں کا شکر کرو گے،تو البتہ میں نعمتوں کو زیادہ کروں گا۔اوراگرکفران نعمت کرو گے،تو یادرکھو،عزاب سخت میں گرفتار ہوگے۔ مومن اور کافر کی کامیابی میں فرق اس اصول کو ہمیشہ مدنظررکھو۔مو من کا کام یہ ہے کہ وہ کسی کامیابی پر جو اسے دی جاتی ہے۔شرمندہ ہوتا ہے اور خدا کی حمد کرتا ہے کہ اس نے اہنا فضل کیا اور اس طرح پروہ قدم آگے رکھتا ہے اور ہر ابتلا میں ثابت قدم رہ کر ایمان پاتا ہے۔بظاہر ایک ہندو اور مومن کی کامیابی ایک رنگ میںمشابہ ہوتی ہے،لیکن یادرکھو کی کافر کی کامیابی ضلالت کی طرف لے جاتی ہے کہ وہ خدا کی طرف رجوع نہیں کرتا،بلکہ اپنی محنت،دانش اور قابلیت کو خدا بنا لیتا ہے،مگر مومن خداکی طرف رجوع کر کے خدا سے ایک نیا تعارف پیدا کرتا ہے اور اس طرح پر ہر ایک کامیابی کے بعد اس کا خدا