تقریر حضرت اقدس علیہ السلام ۱۸؍جنوری ۱۸۹۸؁ء تقدیر تقدیر دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک کا نام معلّق ہے اور دُوسری کومُبْرم کہتے ہیں۔ اگر کوئی تقدیر معلق ہوتو دُعا اورصدقات اُس کو ٹلادیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اُس تقدیر کو بدل دیتا ہے۔ مبرم ہونے کی صورت میں وہ صدقات اور دعا اس تقدیر کے متعلق کچھ فائدہ نہیں پہنچاسکتے۔ہاں وہ عبث اور فضول بھی نہیں رہتے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے۔ وُہ اس دعا اور صدقات کا اثر اور نتیجہ کسی دوسرے پیرائے میں اُس کو پہنچادیتا ہے۔ بعض صورتوں میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ خداتعالیٰ کسی تقدیر میں ایک وقت تک توقّف اور تاخیرڈال ڈال دیتا ہے۔ قضائے معلق اور مُبرم کا ماخذ اور پتہ قرآن کریم سے ملتا ہے۔ یہ الفاظ گو نہیں۔ مثلاً قرآن کریم میں فرمایا ہے اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُم۔ (المومن:۶۱) دُعا مانگو۔ مَیں قبول کروں گا۔ اب یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ دُعا قبول ہوسکتی ہے۔ اور دُعا سے عذاب ٹل جاتا ہے اور ہزار ہا کیا کل کام دعا سے نکلتے ہیں۔ یہ بات یادرکھنے کے قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کل چیزوں پر قادر انہ تصرف ہے۔ وہ جو چاہتا ہے، کرتا ہے۔ اس کے پوشیدہ تصرفات کی لوگوں کو خواہ خبرہو یا نہ ہو، مگر صدہاتجربہ کاروں کے وسیع تجربے اور ہزار ہا دردمندوں کی دُعا کے صریح نتیجے بتلارہے ہیں کہ اس کا ایک پوشیدہ اور مخفی تصرف ہے۔ وہ جو چاہتا ہے،محوکرتا ہے اور جو چاہتا ہے اثبات کرتا ہے۔ ہمارے لئے یہ امر جرور نہیں کہ ہم اس کہ تہہ تک پہنچنے اور اس کی کنہ اور کیفیت معلوم کرنے کی کوشش کریں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ایک شے ہونے والی ہے۔ اس لئے ہم کوجھگڑے اور مباحثے میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ خداتعالیٰ نے انسان کی قضاوقدرکومشروع کررکھا ہے جو توبہ، خشوع ،خضوع سے ٹل سکتی ہے۔ جب کسی قسم کی تکلیف اور مصیبت انسان کو پہنچتی ہے، تو وہ فطرتاً اور طبعاً اعمالِ حسنہ کی طرف رُجوع کرتا ہے۔ اپنے اندر ایک قلق اور کرب محسوس کرتا ہے جو اسے بیدار کرتا ہے اور نیکیوں کی طرف کھینچے لئے جاتا ہے اور گناہ سے ہٹاتا ہے۔ جس طرح پرہم ادویات کے اثر کو تجربے کے ذریعہ سے پالیتے ہیں، اسی طرح پر ایک مُضطربُ الحال انسان جب خداتعالیٰ کے آستانہ پر نہایت تذلل اور نیستی کے ساتھ گرتا