اصل قرآن غار میں لے جاکر چھپ رہے۔چہارم ۔بارہ اماموں تک ولایت ختم ہو چکی ،باقی قیامت تک اادمی وھشیوں کی طرح رہے اور خدا تعالیٰ کو ان سے محبت نہیں۔پنجم۔خدا تعالیٰ کے حبیب آنحضرت صلی الہ علیہ والہ وسلم کے صحابہ ؓ کو گالیاں دینا درود شریف کے پڑھنے سے بھی زیادہ ثواب سمجھتے ہین۔ششم۔کسی اکابر اور اہل اللہ کو نیک نہیں سمجھتے۔میں نے اپنے استاد سے حضرت سید عبد القادر جیلانی کی نسبت سنا ہے کہ وہ گالیاں دیتے تھے۔اصل بات یہ ہے کہ سب سے زیادہ بد نام یزید ہے۔اگر اس کی شراکت سے امام حسینؓ کی شہادت ہوئی،تو کیا برا کیا،لیکن آجکل کے شیعہ مل کر بھی وہ دینی کام نہیں کر سکتے جو اس نے کیا۔ طعام اہل کتاب اہل کتاب کا کھان کھانے پر بابو محمد افضل صاحب کے سوال پرحضرت اقدس نے جواب دیا کہ ’’تمدن کے طور پر ہندووں کی چیز بھی کھا لیتیہیں۔اسی طرح عیسائیوں کا کھا نا بھی درست ہے،مگر بایں ہمہ یہ خیال ضروری ہے کہ برتن پاک ہوں،کوئی ناپاک چیز نہ ہو 1؎ ۔‘‘ ۱۵ جنوری ۱۸۹۸؁ء کو خواجہ کمال الدین صاحب بی اے کے ایل ایل بی کے امتحان میں کامیاب ہونے کی خبر آئی ۔فجر کی نماز کے بعد حضرت اقدس امام ہمام علیہ السلام اور مندرجہ ذیل مختصر سی تقریر فرمائی: دنیوی کامیابیاں اورخوشیاں دائمی نہیں انسان کو ہر قسم کی کامیابی پر ایک خوشی ہوتی ہے۔قرآن کریم سے تین قسم کی خوشیاں لہو،لعب، تفاخر معلوم ہوتی ہیں۔لہو میں اشیاء خوردنی شامل ہے اور لعب میں شادی وغیری کی خوشیاں اور تفاخر میں مال وغیرہ کی خوشیاں شامل ہیں یہ تین قسم کی خوشیاں ہیں۔ان سے باہر کوئی خوشی نہیں ہے۔مگر یاد رکھو کہ کامیابیاں اور یہ خوشیاں دائمی نہیں ہوتی ہیں بلکہ ان کے ساتھ دل لگا و گے،تو سخت حرج ہو گا اور رفتہ رفتہ ایک وقت آجاتا ہے کہ ان خوشیوں کا زمانہ تلخیوں سے بدلنے لگتا ہے۔ دنیا کی کامیابی ابتلا سے خالی نہیں ہوتی ہیں ۔قرآن شریف میں آیا ہے خلق الموت والحیوۃ لیبلو کم (الملک:۳) یعنی موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ ہم تمہیں آزمائیں،کامیابی اور ناکامی بھی زندگی اور موت کاسول ہوتا ہے۔کامیابی ایک قسم کی زندگی ہوتی ہے۔جب کسی کو اپنے کامیاب ہونے کی خوشی ملتی ہے،تو اس میں جان پڑ جاتی ہے اور گویا نئی زندگی ملتی ہے اور اگر ناکامی کی خبر آجائے،تو زندہ ہی مر جاتا ہے اوت بسا اوقات بہت سے کمزور دل