اثر ہمسایہ پر بہت اعلیٰ درجہ کا پڑتا ہے۔ہماری جماعت پر اعتراض ایسے کرتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ ترقی ہو گئی ہے اور تہمت لگاتے ہیں کہ افتراء غیض وغضب میں مبتلا ہیں۔کیا یہ ان کے لئے باعث ندا مت نہیں ہے۔کہ انسان عمدہ سمجھ کر اس سلسلہ میں آیا تھا جیسا کہ ایک رشید فرزند اپنے باپ کی نیک نامی ظاہر کرتا ہے،کیونکہ بیعت کرنے والا فرزند کے حکم میں ہوتا ہے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ازواج مطہرات کو امہات المومینین کہا گیا ہے۔گویا کہ حضور عامۃ المومنین کے باپ ہیں۔جسمانی باپ زمین پر لانے کا موجب ہو تا ہے اور حیات ظاہری کا باعث،مگر روحانی باپ آسمان پر لے جاتا ہے اور اس مرکز اصلی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ کوئی بیٹا اپنے باپ کو بد نام کرے؟طوائف کے ہاں جائے اور قمار بازی کرتا پھرے۔شراب پیوے یا ایسے افعال قبیحہ کا مرتکب ہو جو باپکی بد نامی کا موجب ہوں۔میں جانتا ہوں کہ کوئی آدمی ایسا نہیں ہو سکتا،جو اس فعل کو پسند کرے،لیکن جب وہ ناخلف بیٹا ایسا کرتا ہے،تو پھر زبان خلق بند نہیں ہو سکتی۔لوگ اس کے باپ کی طرف نسبت کر کے کہیں گے کہ یہ فلاں باپ کا بیٹا فلاں بد کام کرتا ہے۔پس وہ نہ خلف بیٹا خود ہی باپ کی بد نامی کا باعث ہوتا ہے۔اس طرح پر جب کوئی شخص اسلام میں داخل ہوتا ہے اور اس سلسلہ کی عظمت اور عزت کا خیال نہیں رکھتا اور اس کے خلاف کرتا ہے تو وہ عند اللہ ماخوذ ہوتا ہے۔وہ صرف اپنے آپ کو ہی ہلاکت میں نہیں ڈالتا بلکہ دوسروں کے لئے ایک برا نمونہ ہو کر ان کو سعادات اور ہدایت کی راہ سے محروم کر دیتا ہے۔پس جہاں تک آپ لوگوں کی طاقت ہے خدا تعالیٰ سے مدد مانگو اور اپنی پوری طاقت اور ہمت سے اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرو۔ جہاں عاجز آجاو،وہاں صدق اور یقین سے ہاتھ اٹھاو ،کیونکہ خشوع اور خضوع سے اٹھائے ہوئے ہاتھ جو صدق اور یقین کی تحریک سے اٹھتے ہیں،خالی واپس نہیں ہوتے،ہم تجربہ سے کہتے ہیں کہ ہماری ہزار ہا دعائیں قبول ہوئی ہیں۔اور ہو رہی ہیں۔ یہ ایک یقینی بات ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے اندر اپنے ابنائے جنس کے لئے ہمدردی کا جوش نہیں رکھتا ،وہ بخیل ہے۔اگر میں ایک راہ دیکھوں جس میں بھلائی اور خیر ہے،تو میرا فرض ہے کہ میں پکار پکار کر لوگوں کو بتلاؤں۔اس امر کی پرواہ نہیں ہونی چاہیے۔کہ کوئی اس پر عمل کرتا ہے یا نہیں ؎ کس بشنود یا نشود من گفتگوئے میکنم اگر ایک شخص بھی زندہ طبیعت کا نکل آوے،تو کافی ہے کہ میں یہ بات کھول کر بیان کرتا ہوں کہ میرے مناسب حال یہ بات نہیں ہے کہ جوکچھ میں آپ لوگوں کو کہتا ہوں میں ،ثواب کی نیت سے کہتا ہوں۔نہیں!میں اپنے نفس میں انتہا درجے کا جوش اور درد پاتا ہوں گو وہ وجوہ نہ معلوم ہیں کہ کیوں یہ جوش ہے۔مگر اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ یہ جوش ایسا ہے کہ میں رک نہیں سکتا۔اس لئے آپ لوگ ان باتوں کو ایسے آدمی کی وصایا سمجھ کر کہ پھر ملنا شائد نصیب نہ ہو ۔ان پر ایسے کاربند ہوں کہ ایک نمونہ ہو اور ان آدمیوں کو جو ہم سے دور ہین،اپنے قول اور فعل سے سمجھا دو۔اگر یہ بات نہیں