کیا وہ ان ناکامیوں کو دیکھ کر بھی اس تجارت کی فکر میں نہیں لگ سکتے ۔جہاں خسارے کا نام ونشان بھی نہیں۔اور نفع یقینی ہے۔زمین دار کس قدر محنت سے کاشتکاری کرتا ہے،مگر کون کہہ سکتا ہے کہ نتیجہ ضرور راحت ہی ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کیسا رحیم ہے اور کیسا خزانہ ہے کہ کوڑی بھی جمع ہو سکتی ہے۔روپیہ اشرفی بھی۔نہ چور چکار کا اندیشہ نہ یہ خطرہ کہ دیوالہ نکل جائے گا۔حدیث میں آیا ہے کہ اگر کوئی ایک کانٹہ راستہ سے ہٹا دے ،تو اس کا بھی ثواب اس کو دیا جاتا ہے،اورت پانی نکلتا ہوا اگر ایک ڈول اپنے بھائی کے گھڑے میں ڈال دے ،تو خدا تعالیٰ اس کا بھی اجر ضائع نہیں کرتا۔پس یاد رکھو کہ وہ راہ جہاں انسان کبھی بھی ناکام نہیں ہو سکتا ۔وہ خدا کی راہ ہے۔دنیا کی شاہرہ ایسی ہے جہاں قدم قدم پر ٹھوکریں اور ناکامیوں کی چٹانیں ہیں۔وہ لوگ جنھوں نے سلطنتوں تک کو بھی چھوڑ دیا،آخر بے وقوف تو نہ تھے۔جیسے ابراہیم ادہم،شاہ شجاع،شاہ عبد العزیز جو مجدد بھی کہلاتے ہیں۔حکومت،سلطنت اور شوکت دنیا کو چھوڑ بیٹھے۔اس کی یہی وجہ تو تھی کہ ہر قدم پر ایک ٹھوکر موجود ہے۔خدا ایک موتی ہے اس کی معرفت کے بعد انسان دنیاوی اشیاء کو ایسی حقارت اور ذلت سے دیکھتا ہے کہ ان کے دیکھنے کے لئے بھی اسے طبیعت پر ایک جبر اور اکراہ کرنا پڑتا ہے؎۔ پس خدا تعالیٰ کی معرفت چاہو اور اس کی طرف ہی قدم اٹھاو کہ کامیابی اسی میں ہے۔ اخلاقی کرامت اللہ تعالیٰ سے اصلاح چاہنا اور اپنی قوت خرچ کرنا یہی ایمان کا طریق ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو یقین سے اپناہاتھ دعا کے لئے اٹھاتا ہے ،اللہ تعالیٰ اس کی دعا رد نہیں کرتا ہے۔پس خدا سے مانگو اور یقین اور صدق نیت سے مانگو۔ میری نصیحت پھر یہی ہے کہ اچھے اخلاق ظاہر کرنا اپنی کرامت ظاہر کرنا ہے۔اگر کوئی کہے کہ میں کرامتی بننا نہیں چاہتا ،تو یہ یاد رکھے کہ شیطان اسے دھوکہ میں ڈالتا ہے۔کرامت سے عجب اور پندار مراد نہیں ہے۔کرامت سے لوگوں کو اسلام کی سچائی اور حقیقت معلوم ہوتی ہے اور ہدایت ہوتی ہے۔میں تمہیں پھر کہتا ہوں کہ عجب اور پندار تو کرامت اخلاقی میں داخل ہی نہیں۔پس یہ شیطانی وسوسہ ہے۔دیکھو یہ کروڑ ہا مسلمان جو روئے زمین کے مختلف حصص میں نظر آتے ہیں۔کیا یہ تلوار کے زور سے،جبرو اکراہ سے ہوئے ہیں؟نہیں ! یہ بالکل غلط ہے۔یہ اسلام کی کرامتی تاثیر ہے جو ان کو کھینچ لاتی ہے۔کرامتیں انواع واقسام کی ہوتی ہیں۔منجملہ ان کے ایک خلاقی کرامت بھی ہے جو ہر میدان میں کامیاب ہے۔انہوں نے جومسلمان ہوئے،صرف راستبازوں کی ہی کرامت دیکھی اور اس کا اثر پڑا ۔انہوں نے اسلام کو عزت کی نگاہ سے دیکھا۔نہ تلوار کو دیکھا بڑے بڑے محقق انگریزوں کو یہ بات ماننی پڑی ہے کہ اسلا م کی سچائی کی روح ہی ایسی قویٰ ہے،جو غیرقوموں کو اسلام میں آنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ سلسلہ کی عظمت اور عزت کا خیال رکھیں جو شخص اپنے ہمسایہ کو اپنے اخلاق میں تبدیلی دکھاتا ہے کہ پہلے کیا تھا اور اب کیا ہے۔ وہ گویا ایک کرامت دکھاتا ہے۔اس کا