ہے اور عمل کی ضرورت نہیںہے،تو پھر مجھے بتلاؤ کہ یہاں آنے کا مطلب کیا ہے۔میں مخفی تبدیلی نہیں چاہتا ۔نمایاں تبدیلی مطلوب ہے،تا کہ مخالف شرمندہ ہوں اور لوگوں کے دلوں پر یک طرفہ روشنی پڑے اور وہ نا امید ہو جاویں کہ یہ مخلاف ضلالت میں پڑے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہاتھ پر بڑے بڑے شریر آکر تائب ہوئے وہ کیوں؟اس عظیم الشان تبدیلی نے جو صحابہؓ میںہوئی اور ان کے واجب التقلید نمونوں نے ان کو شرمندہ کیا۔ عکر مہ کا پاک نمونہ عکرمہ کا حال تم نے سنا ہو گا۔احد کی مصیبت کا بانی مبانی یہی تھا اور اس کا باپ ابو جہل تھا،لیکن آخر کار صحابہؓ کرام کے نمونوں نے اسے شرمندہ کر دیا۔میرا مذہب یہ ہے کہ خوارق نے ایسا اثر نہیں کیا جیسا صحابہ کرام کے پاک نمونوں اور تبدیلیوں نے لوگوں کو حیران کیا ۔لوگ حیران ہو گئے کہ ہمارا چچا زاد کہاں سے کہاں پہنچا۔آخر کار انہوں نے اپنے آپ کو دھوکہ خوردہ سمجھا۔عکرمہ نے ایک دفعہ ذات آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر حملہ کیا اور دوسرے وقت دشمنوں کو درہم برہم کیا۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے میں صحابہ نے جو پاک نمونے دکھائے ہیں۔ہم آج فخر کے ساتھ ان کو دلائل اور آیات کے رنگ میں بیان کر سکتے ہین ؛چنانچہ عکرمہ کا ہی نمونہ دیکھو کہ کفر کے دونوں کفر عجب وغیرہ خصائل بد اپنے اندر رکھتا تھا اور چاہتا تھا کہ بس چلے تو اسلام کو دنیا سے نابود کر دے،مگر جب خدائے تعالیٰ کے فضل نے اس کی دستگیری کی اور وہ مشرف بااسلام ہوا ،تو ایسے اخلاق پیدا ہوئے کہ وہ عجب اور پندار نام تک کو باقی نہ رہا اور فروتنی اور انکسار پیدا ہوا کہ وہ انکسار حجۃ السلام ہو گیا اور صداقت اسلا مکے لئے ایک دلیل ٹھہرا۔ایک موقعہ پر کفار سے مقابلہ ہوا ۔عکرامہ لشکر اسلام کا سپہ سالار تھا۔کفا ر نے بہت سخت مقابلہ کیا۔یہاں تک کہ لشکر اسلام کی حالت قریب شکست کھانے کے ہو گئی۔عکرمہ نے جب دیکھا،تو گھوڑے سے اترا ۔لوگوں نے کہا کہ آپ کیوں اترتے ہیں۔شاید ادھر ادھر ہونے کا وقت ہو ،تو گھوڑا مدد دے۔تو اس نے کہا۔اس وقت مجھے وہ زمانہ یاد آگیا ہے۔جب میں پیغمبر رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لشکر کامقابلہ کیا کرتا تھا۔میں چاہتا ہوں کہ جان دے کر گناہوں کا کفارہ ادا کروں۔اب دیکھئے کہ کہاں سے کہاں تک حالت پہنچی کہ بار بار محامد سے یاد کیا گیا۔یہ یاد رکھو کہ خداتعالیٰ کی رضا ان لوگوں کے شامل حال ہوتی ہے۔جو اس کی رضا اپنے اندر جمع کر لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جا بجا ان لوگوں کو رضی اللہ عنھم کہا ہے۔میری نصیحت یہ ہے کہ ہر شخص ان اخلاق کی پابندی کرے۔ عقائدصحیحہ اور عمال صالحہ علاوہ ازیں دو حصے اور بھی ہیں،جن کو مد نظر رکھنا صادق اخلاص مند کا کام ہونا چاہیے۔ان میں سے ایک عقیدہ صحیحہ کا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا کمال فضل ہے کہ اس نے کامل اور مکمل عقائد صحیحہ کی راہ ہم کو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ذریعے بدوں مشقت و محنت کے دکھائی ہے۔وہ راہ جو آپ لوگوں کو اس زمانہ میں دکھائی گئی ہے۔بہت سے عالم ابھی تک اس سے محروم ہیں۔پس خدا تعالیٰ کے اس فضل اور نعمت کا شکر کرو اور وہ شکر یہی ہے کہ سچے دل سے ان اعمال صالحہ کو بجا لاو جو عقائد صحیحہ کے بعد دوسرے