تو حکم تھا کہ وہ خدا تعالیٰ کے لئے ہو جاتا۔اور صادقوں کیساتھ ہو جاتا ،مگر وہ ہوا ہوس کا بندہ بن کر رہا اور شریروں اور دشمنان خدا اور رسول سے موافقت کرتا رہا۔گویا اس نے اپنے طرز عمل سے دکھا دیا کہ خدا تعالیٰ سے قطع تعلق کر لیا ہے۔یہ ایک عادۃُ اللہ ہے کہ انسان جدھر قدم اٹھا تا ہے،اس کی مخالف جانب سے وہ دور ہوتا جاتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے دور ہو کر ہوا وہوس نفسانی کا بندہ ہو تا ہے،تو خدا اس سے دور ہوتا جاتا ہے اور جوں جوں ادھر قدم بڑھتے جاتے ہیںاُدھر کم ہوتے ہیں ۔یہ مشہور بات ہے کہ دل را بدل رہیست۔پس اگر خدا تعالیٰ سے عملی طور پر بیزاری ظاہر کرتا ہے،تو سمجھ لے کہ خدا تعالیٰ بھی اس سے بے زار رہے اور اگر خدا تعالیٰ سے محبت کرتا ہے اور پانی کی طرح اس کی طرف جھکتا ہے ،تو سمجھ لے کہ وہ مہربان ہے۔محبت کرنے والے سے زیادہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے۔وہ وہ خدا ہے کہ اپنے مھبوں پر بر کات نازل کرتا ہے اور ان کو محسوس کرا دیتا ہے کہ خدا ان کے ساتھ ہے۔یہاں تک کہ ان کے کلام میں ،ان کے لبوں میںبرکت رکھ دیتا ہے،اور لوگ ان کے کپڑوں اور ان کی ہربات سے برکت پاتے ہیں۔امت محمدیہ میںاس کا بین ثبوت اس وقت تک موجود ہے کہ جو خدا کے لئے ہوتا ہے،خدا اس کا ہو جاتا ہے۔
خدا کی طرف سعی کرنے والا کبھی بھی ناکام نہیں رہتا
خدا تعالیٰ اپنی طرف آنے والے کی سعی اور کوشش کوضائع نہیں کرتا۔یہ ممکن ہے کہ زمیندار اپنا کھیت ضائع کر لے۔نوکر موقوف ہو کر نقصان پہنچا دے ۔امتحان دینے والا کامیاب نہ ہو ،مگر خدا کی طرف سعی کرنے والا کبھی بھی ناکام نہیں ہوتا ۔اس کا سچا وعدہ ہے کہ :والذین جاھدو ا فینا لنھدینھم سبلنا(العنکبوت:۷۰)خدا تعالیٰ کی راوہوںکی تلاش میں جو بویا ہوا ہو ،وہ آکر منزل مقصود پرپہنچا۔دنیوی امتحانوں کی تیاریاں کرنے والے ،راتوں کو دن بنا دینے والے طالب علموں کی محنت اور ھالت کو ہم دیکھ کر رحم کر سکتے ہیں،تو اللہ تعالیی جس کا رحم اور فضل بے حد اور بے انت ہے۔اپنی طرف آنے والے کو ضائع کر دے گا ؟ہر گز نہیں ۔ہر گز نہیں۔اللہ تعالیٰ کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا ۔ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین(التوبہ:۱۲۰)اور پھر فرماتا ہے۔من یعمل مثقال ذرۃ خیراً یرہ(الزلزال:۸)ہم دیکھتے ہیں کہ ہر سال ہزار ہا طلب علم سالہا سال کی محنتوں اور مشقتوں پر پانی پھرتا ہوا دیکھ کر روتا ہو رہ جاتے ہیں اور خود کشیاں کر لیتے ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ کا فضل عمیم ایسا ہے کہ زرا سے عمل کو بھی ضائع نہیں کرتا ۔پھر کس قدر افسوس کامقام ہے کہ انسان دنیا میں ظنی اور وہمی باتوں کی طرف تو اس قدر گر ویدہ ہو کر محنت کرتا ہے کہ آرام اپنے اوپر گویا حرام کر لیتا ہے اور صرف خشک امید پر کہ شاید کامیاب ہو جاویں،ہزار ہا رنج اور دکھ اٹھاتا ہے۔تاجر نفع کی امید پر لاکھوں روپیہ لگا دیتا ہے،مگر یقین اسے بھی نہیں ہوتا کہ ضرور نفع ہی ہو گا ،مگر خدا تعالیٰ کی طرف جانے والے کی(جس کے وعدے یقینی اور حتمی ہیں کہ جس کی طرف قدم اٹھانے والے کی ذرا بھی محنت رائگاں نہیں جاتی)میں اس قدر دوڑ دھوپ اور سر گرمی نہیں پاتا ہوں ۔یہ لوگ کیوں نہیں سمجھتے؟وہ کیوں نہیں ڈرتے کہ آخر ایک دن مرنا ہے۔