مدامی اور زندہ کرامت ہے۔انسان اخلاقی حالت کو درست کرے کیوں کہ یہ ایک ایسی کرامت ہے،جس کا اثر کبھی زائل نہیں ہوتا بلکہ نفع دور تک پہنچتا ہے۔مومن کو چاہیے کہ خلق اور خالق کے نزدیک اہل کرامت ہو جاوے۔ بہت سے رند اور عیاش ایسے دیکھے گئے ہیں جو کسی خارق عادت نشان کے قائل نہیں ہوتے ،لیکن اخلاقی حالت کو دیکھ کر انہوں نے بھی سر جھکا لیا ہے۔اور بجز اقرار اور قائل ہونے کے دوسری راہ نہیں ملی ۔بہت سے لوگوں کے سوانح میں اس امر کو پاؤ گے کہ انہوں نے اخلاقی کرامات ہی دیکھ کر دین حق کو قبو ل کر لیا ہے 1 ؎ میری باتوں کو ضائع نہ کریں پس میں پھر پکا ر کر کہتاہوں اور میرے دوست سن رکھیں کہ وہ میری باتوں کو ضائع نہ کریں اور ان کوصرف ایک قصہ گویا داستاں گو کی کہانیوں ہی کا رنگ نہ دیں ،بلکہ میں نے یہ ساری باتیں نہویت دل سوزی اور سچی ہمدردی سے جو فطرتاً میری روح میں ہے،کی ہیں۔ان کو گوش دل سے سنو اور ان پر عمل کرو۔ ہاںخوب یاد رکھو اور اس کو سچ سمجھو کہ ایک روز اللہ تعالیٰ کے ہاں جانا ہے۔پس اگر ہم عمدہ حالت میں یہاں سے کوچ کرتے ہیں تو ہمارے لئے مبارکی اور خوشی ہے۔ورنہ خطر ناک حالت ہے۔یاد رکھو کہ جب انسان بری حالت میں جاتا ہے۔تو مکان بعید اس کے لئے یہاں سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔یعنی نزع ہی کی حالت میں اس میں تغیر شروع ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:انہ من یات ربہ مجرما فا ن لہ جھنم لا یموت فیھا ولا یحیٰ(طہ:۷۵)یعنی جو شخص مجرم بن کر آوے گا ۔اس کے لئے ایک جہنم ہے،جس میں نہ مرے گا اور نہ ہی زندہ رہے گا۔یہ کیسی صاف بات ہے۔اصل لذت زندگی کی راحت اور خوشی میں ہی ہے۔بلکہ اس حالت میں وہ زندہ متصور ہوتا ہے جبکہ ہر طرح کے امن و امان میں ہو ۔اگر وہ کسی درد مثلاً قولنج یا درد دانت ہی میں مبتلا ہو جاوے تو وہ مردوں سے بد تر ہوتا ہے اور حالت ایسی ہوتی ہے کہ نہ تو مردہ ہی ہوتا ہے اور نہ ہی زندہ کہلا سکتا ہے۔پس اس پر قیاس کر لو کہ جہنم کے درد ناک عذاب میں کیسی بری حالت ہو گی۔ مجرم وہ ہے جو اپنی زندگی میں خدا تعالیٰ سے اپنا تعلق قطع کر لے مجرم وہ ہے جو اپنی زندگی میں خدا تعالیٰ سے اپنا تعلق کاٹ لیوے۔اس کو