کرو، کیونکہ یہی حقیقی قوت اور دلیری ہے۔
خُلقِ عظیم بڑی بھاری کرامت ہے
مَیں نے کل یا پرسوں بیان کیا تھا کہ خُلق عظیم بڑی بھاری کرامت ہے جو خوارق عادت امور کو بھی مشتبہ کر سکتا ہے۔مثلاًاگر آج شق القمر کا معجزہ ہو،تویہ ہیئت و طبعی کے ماہراورسائنس کے دلدادہ فی الفورا س کوکسوف خسوف کے اقسام میںداخل کر کے اس کی عظمت کو کم کرنا چاہیں گے اور جو پرانا معجزہ اب پیش کرتے ہیں،تو اسے قصہ قرار دیتے ہیں۔مثلاً یہی کسوف و خسوف دیکھوجو رمضان میں ہوااور جوآیات مہدی میں سے ایک سمادی نشان تھا۔میں نے سنا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیںکہ یہ تو علم ہیئت کی رو سے ثابت تھا کی رمضان میں ایسا ہو۔یہ کہہ کر گویا وہ اس حدیث کی جو امام محمد باقر علیہ السلام کی طرف سے ہے،وقعت کم کرنا چاہتے ہیں۔مگر یہ احمق اتنا نہیں سوچتے کہ نبوت ہر ایک شخص نہیں کر سکتا۔نبوت پیشگوئی کرنے کو کہتے ہیں۔یعنی ہرکس وناکس کا یہ کام نہیں کہ وہ پیشگوئیاں کرتا پھرے ۔پیغمبرخداصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تدعی مہدویت ومسیحیت کے زمانہ میں یہ کسوف خسوف رمضان میں ہو گا اور ابتدائے آفرینش سے آج تک کبھی نہیںہوا۔پس اگر عقلی طور پر کسی قسم کا اشتباہ ہو،تو ایسے مخالفوں کو چاہیے کہ وہ تاریخی طور پر اس پیشگوئی کی عظمت کو کم کر دکھائیں۔یعنی کسی ایسے وقت کا پتہ دیں جبکہ رمضان میںکسوف خسوف اس طور پر ہوا ہو کہ پہلے کسی مدعی نے دعوی بھی کیا ہوااور جس امر کا دعوی کیا ہوا اس امر کے ثبوت میں رمضان کے کسوف وخسوف کی پہلے کسی نبی کے زمانہ میں پیشگوئی بھی کی گئی ہو، مگر یہ ممکن نہیں کہ کوئی دکھلاسکے۔
میری غرض اس واقعہ کے بیان سے صرف یہ تھی کہ خوارق پر تو کسی نہ کسی رنگ میں لوگ عذرات پیش کر دیتے ہیں۔اور اس کو ٹالنا چاہتے ہیں،لیکن اخلاقی حالت ایک ایسی کرامت ہے،جس پر کوئی انگلی نہیں رکھ سکتا اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے بڑا اور قوی اعجاز اخلاق کو ہی دیا گیا ہے۔جیسے فرمایا:انک لعلی خلق عظیم(القلم:۵)یوں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر قسم کے خوارق قوت ثبوت میں جملہ انبیاء علیہ السلام کے معجزات سے بھائے خود بڑھے ہوئے ہیں،مگر آپ کے اخلاقی اعجاز کا نمبر ان سب سے اول ہے جس کی نظیر دنیا کی تاریخ نہیں بتلا سکتی اور نہ پیش کر سکے گی۔
میں سمجھتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو اپنے اخلاق سیّہ کو چھوڑ کر عادات ذمیمہ کو ترک کر کے خصائل حسنہ کو لے لیتا ہے اس کے لئے وہی کرامت ہے۔مثلاً اگر بہت ہی سخت تند مزاج اور غصہ ور ان عادت بد کو چھوڑتا ہے اور حلم اور عفو کو اختیار کرتا ہے یا امساک کو چھوڑ کر سخاوت،اور حسد کی بجائے ہمدردی حاصل کرتا ہے،تو بے شک یہ کرا مت ہے۔اور ایسا ہی خود ستائی اور خود پسندی کو چھوڑ کر جب انکساری اور فروتنی اختیار کرتا ہے،تو یہ فروتنی ہی کرامت ہے۔پس تم میں سے کون ہے جو نہیں چاہتا ہے کہ کرامتی بن جاوے۔میں جانتا ہوں کہ ہر ایک یہی چاہتا ہے۔تو بس یہ ایک