آنے سے پیشتر ہرایک فعل ایک تصوری صورت رکھتا ہے۔ پس توبہ کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ اُن خیالاتِ فاسدہ و تصوراتِ بد کو چھوڑدے۔ مثلاً اگر ایک شخص کسی عورت سے کوئی ناجائز تعلق رکھتا ہے، تو اُسے توبہ کرنے کے لئے پہلے ضروری ہے کہ اس کی شکل کو بدصورت قراردے اور اس کی تمام خصائل رذیلہ کو اپنے دل میں مستحضر کرے، کیونکہ جیسا مَیں نے ابھی کہاہے ۔تصورات کا اثر بہت زبردست اثر ہے اور مَیں نے صوفیوں کے تذکروں میں پڑھا ہے کہ انہوں نے تصور کو یہانتک پہنچایا کہ انسان کو بندر یا خنزیر کی صور ت میں دیکھا۔ غرض یہ ہے کہ جیسا کوئی تصور کرت اہے، ویسا ہی رنگ چڑھ جاتا ہے۔ پس جو خیالاتِ بالذات کا موجب سمجھے جاتے تھے ان کا قلع قمع کرے۔یہ پہلی شرط ہے۔ دُوسری شرط ندم ہے یعنی پشیمانی اور ندامت ظاہر کرنا۔ ہر ایک انسان کا کانشنس اپنے اندر یہ قوت رکھتا ہے کہ وُہ اس کو ہر بُرائی پر متنبہ کرتا ہے، مگر بدبخت انسان اس کو معطل چھوڑدیتا ہے۔ پس گناہ اور بدی کے ارتکاب پرپشیمانی ظاہر کرے اور یہ خیال کرے کہ یہ لذات عارضی اور چندروزہ ہیں اور پھر یہ بھی سوچے کہ ہر مرتبہ اس لذت اور حظ یں کمی ہوتی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ بڑھاپے میں آکر جبکہ قویٰ بیکار اور کمزور ہوجائیں گے۔آخر ان سب لذاتِ دُنیا کو چھوڑنا ہوگا۔ پس جبکہ خود زندگی ہی میں یہ سب لذات چھوٹ جانے والی ہیں تو پھر اُن ارتکاب سے کیاحاصل؟ بڑا ہی خوش قسمت ہے وُہ انسان جو توبہ کی طرف رجوع کرے اور جس میں اول اقلاع کاخیال پیداہو یعنی خیالاتِ فاسدہ و تصورات بیہودہ کا قلع قمع کرے۔ جب یہ نجاست اور ناپاکی نکل جاوے تو پھر نادم ہو اور اپنے کئے پرپشیمان ہو۔ تیسری شرط عزم ہے۔ یعنی آئندہ کے لئے مصمم ارادہ کرلے کہ پھر اُن برائیوں کی طرف رُجوع نہ کرے گا اور جب وہ مداومت کرے گا، تو خداتعالیٰ اسے سچی توبہ کی توفیق عطاکرے گا۔ یہانتک کہ وہ ستیئات اس سے قطعاً زایل ہوکر اخلاقِ حسنہ اور افعالِ حمیدہ اُس کی جگہ لے لین گے اور یہ فتح ہے اخلاق پر۔ اس پر قوت اور طاقت بخشاً اللہ تعالیٰ کا کام ہے، کیونکہ تمام طاقتوں اور قوتوں کا مالک وہی ہے۔ جیسے فرمایا ان القوۃ للہ جمیعاً (البقرہ: ۱۶۶) ساری قوتیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں اور انسان ضعیف البنیان تو کمزور ہستی ہے۔ خلق الانسان ضعیفاً (النساء:۲۹) اُس کی حقیقت ہے۔ پس خداتعالیٰ سے قوت پانے کے لئے مندرجہ بالا ہر سہ شرائط کو کاملِ کرکے انسان کسل اور سستی کو چھوڑدے اور ہمہ تن مُستعِد ہوکر خداتعالیٰ سے دُعا مانگے۔ اللہ تعالیٰ تبدیلِ اخلاق کردے گا۔ اصلی شہ زور کون ہے؟ ہماری جماعت میں شہ زور اور پہلوانوں کی طاقت رکھنے والے مطلوب نہیں بلکہ ایسی قوت رکھنے والے مطلوب ہیں جو تبدیلِ اخلاق کے لئے کوشش کرنے والے ہوں۔ یہ ایک امرِ واقعی ہے کہ وہ شہ زور اور طاقت والا نہیں جو پہاڑکو جگہ سے ہٹا سکے۔ نہیں نہیں۔اصلی بہادر وہی ہے جو تبدیلِ اخلاق پر مقدرت پاوے۔ پس یادرکھو کہ ساری ہمت اور قوت تبدیلِ اخلاق میں صرف