تبدیل اخلاق مجاہدہ اور دُعا سے ممکن ہے جب تک انسان مجاہدہ نہ کرے گا، دُعا سے کام نہ لے گا وہ غمرہ جو دل پر پڑجاتا ہے، دُور نہیں ہوسکتا؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ان اللہ لا یغیر مابقوم حتی یغیر واما بانفسم (الرعد:۱۲) یعنی خداتعالیٰ ہر ایک قسم کی آفت اور بَلا کو جو قوم پر آتی ہے دُور نہیں کرتا ہے، جب تک خود قوم اس کو دُور کرنے کی کوشش نہ کرے۔ ہمت نہ کرے، شجاعت سے کام نہ لے تو کیونکر تبدیلی ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک لاتبدیل سنت ہے۔ جیسے فرمایا: ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلاً۔ (الاحزاب:۶۳) پس ہماری جماعت ہویا کوئی ہو، وہ تبدیل اخلاق اُسی صورت میں کرسکتے ہیں جبکہ مجاہدہ اور دُعا سے کام لیں ؛ ورنہ ممکن نہیں ہے۔ تبدیلِ اخلاق کے متعلق دومذہب حکماء کے تبدیل اخلاق پر دو مذہب ہیں۔ ایک تو وُہ ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ انسان تبدیلِ اخلاق پرقادر ہے اور دُوسرے وہ ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ وہ قادر نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ کسل اورسُستی نہ ہواور ہاتھ پَیرہلاوے ، تو تبدیل ہوسکتے ہیں۔ مجھے اس مقام پر ایک حکایت یادآئی ہے اور وہ یہ ہے ۔ کہتے ہیں کہ یونانیوں کے مشہور فلاسفرافلاطون کے پاس ایک آدمی آیا اور دروازہ پر کھڑے ہوکر اندر اطلاع کرائی۔ افلاطون کا قاعدہ تھا کہ جب تک آنے والے کا حلیہ اور نقوشِ چہرہ کو معلوم نہ کرلیتا تھا، اندر نہیں آنے دیتا تھا۔ اور وہ قیافہ سے استنباط کرلیتا تھا کہ شخصِ مذکور کیس اہے، کس قسم کا ہے۔ نوکر نے آکر اس شخص کا حلیہ حسبِ معمول بتلایا۔ افلاطون نے جواب دیا کہ اُس شخص کو کہہ دو کہ چونکہ تم میں اخلاقِ رذیلہ بہت ہیں، مَیں ملنا نہیں چاہتا۔ اُس آدمی نے جب افلاطون کا یہ جواب سُنا، تو نوکر سے کہا کہ تم جاکر کہہ دو کہ جو کچھ آپ ے فرمایا ، وہ ٹھیک ہے، مگر مَیں اپنی عادات رذیلہ کا قلع قمع کرکے اصلاح کرلی ہے۔ اس پر افلاطون نے کہا ۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے؛ چنانچہ اُس کو اندر بلایا اور نہایت عزت واحترام کے ساتھ اُس سے ملاقات کی۔ جن حکماء کا یہ خیال ہے کہ تبدیل اخلاق ممکن نہیں۔ وہ غلطی پر ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض ملازمت پیشہ لوگ جو رشوت لیتے ہیں جب وہ سچی توبہ کرلیتے ہیں،پھر اگر ان کو کوئی سونے کا پہاڑ بھی دے، تواس پر نگاہ نہیں کرتے۔ توبہ کے تین شرائط توبہ دراصل حصولِ اخلاق کے لئے بڑی محرک اور مؤیدّ چیز ہے اور انسان کو کاملِ بنادیتی ہے۔ یعنی جو شخص اپنے اخلاقِ سیّئہ کی تبدیلی چاہتا ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ سچے دل اور پکے ارادے کے ساتھ توبہ کرے۔ یہ بات بھی یادرکھنی چاہیے کہ توبہ کے تین شرائط ہیں۔ بُدوں اُن کی تکمیل کے سچی توبہ جسے توبۃ النصوح کہتے ہیں، حاصل نہیں ہوتی۔ ان ہرسہ شرائط میں سے پہلی شرط جسے عربی زبان میں اقلاع کہتے ہیں۔ یعنی اُن خیالات فاسدہ کو دُور کردیا جاوے جو ان خصائل رویہ کے محرک ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ تصورات کا بڑ ابھاری اثرپڑتا ہے ، کیونکہ حیطۂ عمل میں