غمرہ دُورنہ ہوتب تک علیٰ وجہ البصیرت کام نہیں ہوسکتااور وہ وہ اولوالابصار نہیں کہلاسکتے۔ قُتِل اس لیے فرمایا کہ وہ رحم کی جگہ ہے۔ گویا وہ فاعل بھی خود ہی ہیں۔اپنے آپ کو کود ہلاک کیا۔ بعض آدمیوں میں خراص ہونے کا مادہ ہوتا ہے۔ وہ بصیرت اور دوراندیشی سے کام نہیں لیتے، بلکہ ظنُونِ فاسدہ اور اٹکلوں سے کام لیتے ہیں اور وُہ اسی میں اپنا کمال سمجھتے ہیں۔ میری غرض یہ تھی کہ حصۂ اخلاق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل نمونہ پیش کروں۔ جو ایک فردِ اکمل تھے۔ زاں بعد متفرق طور پر آپؐ کے اخلاق سے حصہ لیا گیا۔ کسی نے ایک لیا اور دُوسرے نے کوئی اور۔ اور ایک کو دُوسرے میں غمرہ ہوگیا۔ جس طرح کسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس غمرہ کودُور کرے؛ ورنہ اس کا نتیجہ دُوسرے پودوں پر اچھا نہیں ہوگا۔ اسی طرح ہر ایک انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے اندرونی غمرہ کو دُور کرے؛ ورنہ اندیشہ ہے کہ دُوسری صفاتِ حسنہ کو بھی نہ کھو بیٹھے۔
لکل دائٍ دواء ٌ کاوسیع مفہوم
یہ بات ٹھیک نہیں کہ بعض اخلاق کے تبدیل پر انسان قادر ہے۔اور بعض پر نہیں۔ نہیں نہیں!ہر ایک مرض کا علاج موجود ہے۔ لکل دائٍ دواء ٌ ۔ افسوس ! لوگ آپؐ کے اس مبارک قول کی قدر نہیں کرتے اور اس کو صرف ظاہری امراض تک ہی محدود سمجھتے ہیں۔ یہ کس قدر نادانی اور غلطی ہے جس حال میں ایک فانی جسم کے لئے اس کی اصلاح اور بھلائی کے کل سامان موجودہیں، توکیا یہ ہوسکتا ہے کہ انسان کی روحانی امراض کا مداوا اللہ تعالیٰ کے حضور کچھ بھی نہ ہو؟ ہے! اور ضرور ہے!!
یہ ایک واقعی اور یقینی بات ہے کہ خداتعالیٰ اُن لوگوں کی مدد کرتا ہے جو آپ اپنی مدد کرتے ہیں، لیکن جو کسل اور سُستی سے کام کرتے ہیں ، وُہ آخرکار ہلاک ہوجاتے ہیں۔
پیرانہ سالی کی دو قسمیں
انسان پرجیسے ایک طرف نقص فی الخلق کا زمانہ آتا ہے، جسے بڑھاپاکہتے ہیں۔اُس وقت آنکھیں اپنا کام چھوڑ دیتی ہیں اور کان شنوا نہیں ہوسکتے۔ غرض کہ ہر ایک عضوِ بدن اپنے کام سے عاری اور معطل کے قریب قریب ہوجات اہے۔ اسی طرح سے یادرکھو کہ پیرانہ سالی دو قسم کی ہوتی ہے۔ طبعی اور غیر طبعی۔ طبعی تو وہ ہے جیساکہ اُوپر ذکر ہوا۔ غیرطبعی وُہ ہے کہ کوئی اپنی امراجِ لاحقہ کا فکر نہ کرے، تو وہ انسان کو کمزور کرکے قل از وقت پیرانہ سال بنادیں۔ جیسے نظام جسمانی میں یہ طریق ہے ایسا ہی اندرونی اور رُوحانی نظام میں ہوتا ہے۔ اگر کوئی اپنے اخلاقِ فاسدہ کو اخلاقِ فاضلہ اور خصائلِ حسنہ سے تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرتا ، تو اس کی اخلاقی حالت بالکل گرجاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد اور قرآن کریم کی تعلیم سے یہ امر ببداہت ثابت ہوچکا ہے کہ ہر ایک مرض کی دوا ہے، لیکن اگر کسل اورسُستی انسان پر غالب آجاوے ، تو بجز ہلاکت کے اور کیا چارہ ہے۔ اگر ایسی بے نیازی سے زندگی بسر کرے جیسی کہ ایک بوڑھا کرتاہے، تو کیونکربچائو ہوسکتا ہے۔