سب ایک سائل کو بخش دیں۔ اب اگر پاس نہ ہوتا تو کیا بخشے۔ اگرحکومت کا رنگ نہ ہوتا، تو یہ کیونکر ثابت ہوتا کہ آپؐواجبُ القتل کفارِ مکہ کو باوجود مقدرت انتقام کے بخش سکتے ہیں۔ جنہوں نے صحابہ کرام ؓ اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور مُسلمان عورتوں کو سخت سے سخت اذیتیں اور تکلیفیں دی تھیں۔ جب وہ سامنے آئے تو آپؐ نے فرمایا لاتثریب علیکم الیوم (یوسف:۹۳) مَیں نے آج تم کو بخش دیا۔ اگر ایساموقع نہ ملتا تو ایسے اخلاقِ فاضلہ حضورؐ کے کیونکر ظاہر ہوتے ۔ یہ شان آپؐ کی اورصرف آپؐ کی ہی تھی۔ کوئی ایسا خُلق بتلائو جو آپؐ میں نہ ہو اور پھر بدرجۂ غایت کاملِ طورپر نہ ہو۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی کو دیکھ کر کہنا پڑتا ہے کہ ان کے اخلاق بالکل مخفی ہی رہے۔ شریر یہود جن کو گورنمنٹ کے ہاں کُرسیاں ملتی تھیں اوررُومی گورنمنٹ ان کے گروہ کی وجہ سے عزت کرتی تھی۔ مسیحؑ کو تنگ کرتے رہے، مگر کوئی اقتدار کا وقت حضرت مسیح ؑ کی زندگی میں ایسا نہ آیا، جس سے معلوم ہوجاتا کہ وہ کہانتک باوجود مقدرتِ انتقام کے عفو سے کام لیتے ہیں۔ مگر برخلاف اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق ایسے ہیں کہ وُہ مشاہدہ اور تجربہ کی محک پر کامل المیعار ثابت ہوئے۔ یہ صرف باتیں ہی نہیں ، بلکہ اُن کی صداقت کا ثبو ت ہمارے ہاتھ میں ایسا ہی ہے، جیسے ہندسہ اور حساب کے اُصول صحیح اور یقینی ہیں اور ہم دو اور دو چار کی طرح اُن کو ثابت کرسکتے ہیں ، لیکن کسی اور نبی کا متبع ایسا نہیں کرسکتا۔ اسی لیے آپؐ کی مثال ایک ایسے درخت سے دی جس کی جڑ ، چھال ، پھل ، پھول، پتے غرض کہ ہر ایک چیز مفید اور غایت درجہ مُفید۔ راحت رساں اورسُروربخش ہے۔ چونکہ جناب سرورکائنات علیہ التحیات کے بعد اُمت میں ایک فرقہ پیدا ہوگیا، اس لیے وہ جامعیت اخلاق بھی نہ رہی، بلکہ جُداجُدا اور متفرق طور پر وُہ مجموعۂ اخلاق پھیل گیا۔ اس لیے بعض آدمی بعض اخلاق کو آسانی سے صادر کرسکتے ہیں۔ تزکیۂ نفس اور فلاح ہدایت الہٰی تو یہ ہے کہ قدافلح من زکھا وقد خاب من دسھا(الشمس:۱۰،۱۱) نجات پائے گا وہ شخص جس نے تزکیہ ٔ نفس کیا اور ہلاک ہوگیا وہ آدمی جس نے نفس کو بگاڑا۔ فلح چیرنے کو کہتے ہیں۔فلاحت زراعت کو کہتے ہیں۔ تزکیۂ نفس میں بھی فلاحت ہے۔ مجاہدہ انسانی نفس کو اُس کی خرابیوں اور سختیوں سے صاف کرکے اس قابل بنادیتا ہے کہ اس میں ایمان صحیح کی تخم ریزی کی جاوے۔ پھر وہ شجرِ ایمان بارآور ہونے کے لائق بن جاتا ہے۔ چونکہ ابتدائی مراحل اور منازل میں متقی کو بڑی بڑی مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے فلاح سے تعبیر کیا ہے۔ دُوسری جگہ فرمایا ہے : قتل الخراصون الذین ھم فی غمرۃ ساھون (الذاریات:۱۱،۱۲) اللہ تعالیٰ کفار کا حال بیان کرتاہے کہ ستیاناس ہوگیا۔ اٹکل بازیاں کرنے والوں کا۔ جن کے نفوس غمرہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ غمرہ دبانے والی چیز کو کہتے ہیں، جوسَراُٹھانے نہ دے کھیت پر بھی غمرہ پرتا ہے، جسے کرنڈ کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اٹکل بازیاں کرنے والوں کا ستیاناس ہوگیا۔ ہنوز اُن کے نفوس غمرہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ مومنوں کو اس آیت میں ایک نظیر دے کر متنبہ کیا جاتا ہے کہ جب تک