کسی نے کیااچھا کہا ہے ؎
خشتِ اوّل چوں نہر معمار کج تاثریّا مے رَود دیوار کج
ان باتوں کو نہایت توجہ سے سننا چاہیے۔ اکثر آدمیوں کو مَیں نے دیکھا اور غور سے مُطالعہ کیا ہے کہ بعض سخاوت تو کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی غصہ وراور زوررنج ہیں۔ بعض حلیم توہیں، لیکن بخیل ہیں۔ بعض غضب اور طیش کی حالت میں ڈنڈے مارمار کرگھائل کردیتے ہیں، مگر تواضع اور انکسارنام کونہیں۔ بعض کو دیکھا ہے کہ تواضع اورانکسار تواُن میں پرلے درجہ کا ہے، مگر شجاعت نہیں ہے۔یہانتک کہ طاعون اور ہیضہ کانام بھی سُن لیں، تودَست لگ جاتے ہیں۔ مَیں یہ خیال نہیں کرتا کہ جو ایسے طور پر شجاعت نہیں کرتا، اس کا ایمان نہیں۔ صحابہ کرام ؓ سے بھی بعض ایسے تھے کہ اُن کو لڑائی کی قوت اور جانچ نہ تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو معذور رکھتے تھے۔ یہ اخلاق بہت ہیں۔ مَیں نے جلسۂ مذاہب کی تقریر میں اِن سب کو واضح طور پر اور مفصّل بیان کیا ہے۔ ہر انسان جامع صفات بھی نہیں اور بالکل محروم بھی نہیں ہے۔
رُسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ عالیہ
سب سے اکمل نمونہ اور نظیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو جمیع اخلاق میں کامل تھے۔ اسی لئے آپؐ کی شان میں فرمایا: انک لعلیٰ خلق عظیم (القلم:۵)ایک وقت ہے کہ آپؐ فصاحت بیانی سے ایک گروہ کو تصویر کی صورت حیران کررہے ہیں۔ ایک وقت اتا ہے کہ تیر وتلوار کے میدان میں بڑھ کر شجاعت دکھاتے ہیں۔سخاوت پر آتے ہیں، تو سونے کے پہاڑ بخشے ہیں۔ حلم میں اپنی شان دکھاتے ہیں، تو واجب القتل کو چھوڑ دیتے ہیں۔ الغرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بے نظیر اور کامل نمونہ ہے۔ جو خداتعالیٰ نے دکھادیا ہے۔ اس کی مثال ایک بڑے عظیم الشان درخت کی ہے۔ جس کے سایہ میں بیٹھ کر انسان اس کے ہر جزو سے اپنی ضرورتوں کو پورا کرلے۔ اس کا پھل اس کا پھول اور اس کی چھال، اس کے پتے۔ غرض کہ ہر چیز مفید ہو۔آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس عظیم الشان درخت کی مثال ہیں۔ جس کا سایہ ایسا ہے کہ کروڑ ہا مخلوق اس میں مرغی کے پَروں کی طرح آرام اور پناہ لیتی ہے۔ لڑائی میں سب سے بہادر وُہ سمجھا جاتا تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتا تھا، کیونکہ آپؐ بڑے خطرناک مقام میں ہوتے تھے۔ سبحان اللہ! کیا شان ہے۔ اُحد میں دیکھو کہ تلواروں پر تلواریں پڑتی ہیں۔ ایسی گھمسان کی جنگ ہورہی ہے کہ صحابہ ؓ کا قصور نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بخش دیا، بلکہ اس میں بھید یہ تھا کہ تارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت کا نمونہ دکھایا جاوے۔ ایک موقع پر تلوار پر تلوار پڑتی تھی اور آپؐ نبوت کا دعویٰ کرتے تھے کہ محمد رسول اللہ مَیں ہوں۔کہتے ہیں حضرت ؐ کی پیشانی پر سترزخم لگے۔ مگر زخم خفیف تھے، یہ خُلقِ عظیم تھا۔
ایک وقت آتا ہے کہ آپؐ کے پا س اس قدر بھیڑبکریاں تھی کہ قیصروکسریٰ کے پاس بھی نہ ہوں۔ آپؐ نے وُہ