سچی بصیرت مانگنے کی ہدایت پس ایاک نعبدیہ بتلارہا ہے کہ اے رب العالمین! تیرے پہلے عطیہ کو بھی ہم نے بیکار اور بربادنہیں کیا۔ اھدناالصراط المستقیم میں یہ ہدایت فرمائی ہے کہ انسان خداتعالیٰ سے سچی بصیرت مانگے۔ کیونکہ اگر اُس کا فضل اور کرام دستگیری نہ کرے، تاعاجزانسان ایسی تاریکی اوراندھکار میںپھنساہوا ہے کہ وُہ دُعا ہی نہیں کرسکتا۔ پس جب تک انسان خدا کے اُس فضل کو جو رحمانیت کے فیضان سے اُسے پہنچا ہے کام میں لاکردُعانہ مانگے۔ کوئی نتیجہ بہتر نہیں نکال سکتا۔ مَیں نے عرصہ ہوا انگریزی قانون میں یہ دیکھتا تھا کہ تقادی کے لئے پہلے کچھ سامان دکھاناضروری ہوتا ہے۔ اسی طرح قانونِ قدرت کی طرف دیکھو کہ جو کچھ ہم کو پہلے ملا ہے۔ اس سے کیا بنایا؟ اگر عقل و ہوش ، آنکھ کان رکھتے ہوئے نہیں بہکے ہوا اور حُمق اور دیوانگی کی طرف نہیں گئے، تو دعا کرو اور بھی فیضِ الہٰی ملے گا؛ ورنہ محرومی اور بدقسمتی کے لچھن ہیں۔ حکمت کے معنی بسااوقات ہمارے دوستوں کو عیسائیوں سے واسطہ پڑے گا۔ وہ دیکھیں گے کہ کوئی بھی بات نادانوں میں ایسی نہیں جو حکیم خدا کی طرف منسوب ہوسکے۔ حکمت کے معنی کیا ہیں؟ وضح الشیئی فی محلہٖ ۔ مگر اُن میں دیکھو گے کہ کوئی فعل اور حکم بھی اس کا مصداق نظر نہیں آتا۔ اھدناالصراط المستقیم پر جب ہم پُرغور نظر کرتے ہیں تو اشارۃ النص کے طور پر پتہ لگتا ہے کہ بظاہرتو اس سے دُعا کرنے کا حکم معلوم ہوتا ہے کہ الصراط المستقیم کی ہدایت مانگنے کی تعلیم ہے۔ لیکن ایاک نعبدویاک نستعین اس کے سر پر بتلارہا ہے کہ اس سے فائدہ اُٹھائیں یعنی راہِ راست کے منازل کے لئے قوائے سلیم سے کام لے کر استعانتِ الہٰی کو مانگنا چاہیے۔ اخلاق سے کیا مراد ہے اب سوچنا چاہیے کہ وہ کونسی باتیں ہیں جو مانگنی چاہئیں ۔اوّل اخلاق، جو انسان کو انسان بناتا ہے۔ اخلاق سے کوئی صرف نرمی کرنا ہی مراد نہ لے لے۔ خُلق اور خَلق دو لفظ ہیں، جوبالمقابل معنوں پردلالت کرتے ہیں۔ خَلق ظاہری پیدائش کا نام ہے۔ جیسے کان، ناک۔ یہانتک کہ بال وغیرہ بھی سب خَلق میں شامل ہیں اور خُلق باطنی پیدائش کانام ہے۔ ایس اہی باطنی قویٰ جو انسان اور غیرانسان میں مابہ الامتیاز ہیں، وُہ سب خُلق میں داخل ہیں۔ یہانتک کہ عقل فکر وغیرہ تمام قوتیں خلق ہی میں داخل ہیں۔ خُلق سے انسان اپنی انسانیت کو دُرست کرت اہے۔ اگر انسانوں کے فرائض نہ ہوں، تو فرض کرنا پڑے گا کہ آدمی ہے؟ گدھا ہے؟یا کیا ہے؟ جب خُلق میں فرق آجاوے، توصورت ہی رہتی ہے ،مثلاً عقل ماری جاوے تو مجنون کہلاتا ہے۔ صرف ظاہری صورت سے ہی انسان کہلاتا ہے۔پس اخلاق سے مراد خداتعالیٰ کی رضا جوئی(جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی میں مجسم نظرآتا ہے) کا حصول ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ ولسم کی طرزِ زندگی کے موافق اپنی زندگی بنانے کی کوشش کرے۔ یہ اخلاق بطور بنیاد کے ہیں۔ اگر وہ متزلزل رہے تو اس پر عمارت نہیں بناسکتے۔ اخلاق ایک اینٹ پر دُوسری اینٹ کا رکھنا ہے۔ اگر ایک اینٹ ٹیڑھی ہو، تو ساری دیوار ٹیڑھی رہتی ہے۔