بھی چونکہ دُنیا کی حالت بہت ہی قابلِ رحم ہوگئی تھی۔ اخلاق، اعمال، عقائد سب کا نام ونشان اُٹھ گیا تھا، اس لیے اس امت کو مرحومہ کہا گیا، کیونکہ اس وقت برے ہی رحم کی ضرورت تھی اور اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ ماارسلنک الارحمۃ للعلمین(الانبیاء:۱۰۸) قابلِ رحم اس شخص شخص کو کہتے ہیں جسے سانپوں کی زمین پر چلنے کا حکم ہو۔ یعنی خطرات عظیمہ اور آفاتِ شدیدہ درپیش ہوں۔ پس اُمّتِ مرحومہ اس لیے کہا کہ یہ قابلِ رحم ہے۔ جب انسان کو مشکل کام دیاجاتا ہے ، تو وُہ مشکل قابلِ رحم ہوتی ہے۔ شرارتوں میں تجربہ کار، بداندیش خطاکاروں سے مقابلہ ٹھہرا اور پھراُمی جیسے حضرت نے فرمایا کہ اُمی ہیں اور حساب نہیں جانتے۔ پس اُمیوں کو شریر قوموں کا مقابلہ کرنا پڑا، جو مکائد اور شرارتوں میں تجربہ کار تھے، اس لیے اس کا نم اُمتِ مرحومہ رکھا۔ مسلمانوں کو کس قدر خوش ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قابلِ رحم سمجھا۔ پہلے وعظِ انبیاء ایسے وقتوں میں آتے تھے کہ لوگ مکائد سے واقف نہ ہوتے اور بعض اپنی ہی قوم میں آتے تھے، لیکن اب لوگو مکائد اور دُنیا کے علوم وفنون اور فلسفہ و سائنس میں پکے ماہر ہیں اور راستبازوں کو اس جہان کے ظاہری علوم اور مادی عقلوں سے اور اُن کے پیچ درپیچ منصوبوں اور دائوں سے بہت کم مناسبت ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ اے عیسیٰ ؑ! میں تیرے بعد ایک اُمّت کو پیداکرنے والا ہوں جو نہ عقل رکھے گی اور نہ علم یعنی اُمی ہوگی۔ آپؐ نے عرض کی یارب کیف یعرفونک؟ اے اللہ ! جب کہ وہ علم اور عقل سے بہرہ ورنہ ہوں گے ، تو تجھے کیونکر پہنچانیں گے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں اپنا علم اور عقل دوں گا۔ اہلِ اسلام کو سماوی علُوم سے مناسبت ہے اس سے بڑی بشارت ملتی ہے۔ جیسے ہمارے مخالفوں کو اَرضی علُوم سے مناسبت ہے، ایسے ہی اہلِ اسلام کو سماوی علوم سے۔ ایک گنوار مُسلمان کی سچی رؤیا اور خوابیں بڑے بڑے فلاسفروں، بشپوں اورپنڈتوں کے خوابوں سے طاقت میں بڑھ کر ہیں۔ ذٰلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء (الجمعۃ :۵) پس مُسلمانوںکو واجب ہے کہ اپنے اس محسنِ حقیقی کا شکر کریں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:لئن شکرتم لازیدنکم ولئن کفرتم ان عذابی لشدیدٌ۔(ابراہیم:۸) یعنی اگر تم میرا شکرکروگے، تو مَیں اپنی دی ہوئی نعمت کو زیادہ کروں گا اور بصورت کفر عذاب میرا سخت ہے۔ یادرکھو کہ جب اُمت کومرحومہ قراردیا ہے۔ اور علومِ لدنیہ سے اُسے سرفرازی بخشی ہے، تو عملی طور پر شکر واجب ہے۔ الغرض اھدناالصراط المستقیم میں تمام مسلمانوں کو لازم ہے کہ ایاک نعبدکا لحاظ رکھیں، کیونکہ ایاک نعبد کو ایاک نستعین پر مقدم رکھا ہے۔ پس پہلے عملی طور پرشکریہ کرنا چاہیے اور یہی مطلب اھدنا الصراط المستقیم میں رکھا ہے۔ یعنی دُعا سے پہلے اسباب ظاہری کی رعایت اور نگہداشت ضروری طور پر کی جاوے۔ اور پھر دُعا کی طرف رجُوع ہو۔ اولاً عقائد، اخلاق اور عادات کی اصلاح ہو۔ پھر اھدناالصراط المستقیم۔