اخلاق انسان کے صالح ہونے کی نشانی ہیں
اب مَیں ایک اور ضروری اور اشد ضروری بات بیان کرنی چاہتا ہوں۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ لاپرواہی اور عدم توجہی سے نہ سُنے۔ یادرکھو کہ اخلاق انسان کے صالح ہونے کی نشانی ہیں۔ عام طور پر حدیث شریف میں مُسلمانوں کی یہی تعریف آئی ہے کہ ’’مسلمان وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان سلامت ہیں۔‘‘
’’یہاں تک حضورؑ نے تقریر فرمائی تھی کہ نمازِ عصر کا وقت ہوگیا؛ چنانچہ آپؑ نے اور کل حاضرین نے نہایت خلوص اورسچے جوش سے نماز عصرادا کی اور پھر سب کے سب ہمہ تن گوش ہوکر ’’مردِ خدا‘‘ کی باتیں سننے لگے اور آپ ؑ نے تقریر کو پھر شروع کیا۔ ایڈیٹر‘‘
مَیں نے اس ذکر کو چھوڑا تھا کہ اھدناالصراط المستقیم کی دُعا تعلیم کرنے میں اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے کہ انسان تین پہلو مدِنظر رکھے۔ اول ، اخلاقی حالت۔دوم، حالتِ عقائد۔ سوم،اعمال کی حالت۔ مجموعی طور پر یوں کہو کہ انسان خداداد قوتوں کے ذریعے سے اپنے حال کی اصلاح کرے اور پھر اللہ تعالیٰ سے مانگے۔ یہ مطلب نہیں کہ اصلاح کی صورت میں دعانہ کرے۔ نہیں اس وقت بھی مانگتا رہے ایاک نعبد وایاک نستعین میں فاصلہ نہیں ہے؛ البتہ ایاک نعبد میں تقدم زمانی ہے، کیونکہ جس حال میں اپنی رحمانیت سے بغیر ہماری دُعا اور درخواست کے ہمیں انسان بنایا اور انواع واقسام کی قوتیں اورنعمتیں عطافرمائیں۔ اس وقت ہماری دُعا نہ تھی اس وقت خدا کا فضل تھا اور یہی تقدم ہے۔
رحمانیت اوررحیمیت
یہ یادرہے کہ رحم دوقسم کا ہوتا ہے۔ ایک رحمانیت اور دوسرا رحیمیت کے نام سے موسوم ہے۔ رحمانیت تو ایسافیضان ہے کہ جو ہمارے وجود اور ہستی سے بھی پہلے شروع ہوا۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے پہلے پہل اپنے علم قدیم سے دیکھ کراس قسم کا زمین وآسمان اور ارضی اور سماوی اشیاء ایسی پیدا کی ہیں، جو سب ہمارے کام آنے والی ہیں اورکام آتی ہیں اور ان سب اشیاء سے انسان ہی عام طور پر فائدہ اُٹھاتا ہے۔ بھیڑبکری اور دیگر حیوانات جبکہ بجائے خود انسان کے لئے مفید شے ہیں تو وہ کیا فائدہ اُٹھاتے ہیں؟ دیکھو جسمانی اُمور میں انسان کیسی کیسی لطیف اور اعلیٰ درجہ کی غذائیںکھاتا ہے۔ اعلیٰ درجہ کاگوشت انسان کے لیے ہے۔ ٹکڑے او رہڈیاں کتوں کے واسطے جسمانی طور پر جو حظوظ اور لذات انسان کو حاصل ہیں گوحیوان بھی اس میں شریک ہیں، مگر انسان کو وہ بدرجۂ اعلیٰ حاصل ہیں اور رُوحانی لذات میں جانور شریک بھی نہیں ہیں۔ پس یہ دوقسم کی رحمتیں ہیں۔ ایک وہ جو ہمارے وجود سے پہلے پیش از وقت کے طور پر تقدمہ کی صورت میں عناصر وغیرہ اشیاء پیداکیں جو ہمارے کام میں لگی ہوئی ہیں اور یہ ہمارے وجود، خواہش اور دُعا سے پہلے ہیں، جو رحمانیت کے تقاضے سے پیداہوئے۔
اوردُوسری رحمت رحیمیت کی ہے۔ یعنی جب ہم دُعا کرتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔ غورکیا جاوے تومعلوم