ہے کہ ہر ایک کام کردینا اور حکیم یہ کہ ہر ایک کام کسی حکمت سے موقع اور محل کے مناسب اور موزوں کردینا۔ دیکھو نباتات، جمادات میں قسم قسم کے خواص رکھے ہیں۔ تربدہی کو دیکھو کہ وہ ایک دو تولہ تک دست لے آتی ہے، ایس اہی سقمونیا۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ یُونہی دست آجائے یا پیاس بُدوں پانی ہی کے بُجھ جائے۔ مگر چونکہ عجائبات قدرت کا علم کرانا بھی ضروری تھا۔ کیونکہ جس قدر واقفیت اورعلم عجائبات قدرت کا وسیع ہوتا جاتا ہے۔ اُسی قدر انسان اللہ تعالیٰ کی صفات پراطلاع پاکرقُرب حاصل کرنے کے قابل ہوتاجاتا ہے۔ طبابت، ہیبت سے ہزار ہا خواص معلوم ہوتے ہیں۔
خواص الاشیاء کا ہی نام علم ہے
علوم ہیں ہی کیا؟ صرف خواص الاشیاء ہی کا تو نام ہے۔ سیارہ، ستارہ، نباتات کی تاثیریں اگر نہ رکھتا تو اللہ تعالیٰ کی صفت علیم پر ایمان لانا انسان کے لئے مشکل ہوجاتا ہے۔
یہ ایک یقینی امر ہے کہ ہمارے علم کی بنیاد خواص الاشیاء ہے۔ اس سے یہ غرض ہے کہ ہم حکمت سیکھیں۔ علوم کا نام حکمت بھی رکھاہے؛ چنانچہ فرمایا: ومن یوت الحکمۃ فقداوتی خیرا کثیراً۔(البقرۃ:۲۷۰)
اھدناالصراط المستقیم کا مقصد
پس اھدناالصراط المستقیم کا مقصد یہی ہے کہ اس دُعا کے وقت اُن لوگوں کے اعمال، اخلاق، عقائد کی نقل کرنی چاہییجو منعم علیہ ہیں۔جہانتک انسان سے ممکن ہو عقائد ، اخلاق اور اعمال سے کام لے۔ اس امر کو تم مشاہدہ میں دیکھ سکتے ہو جبتک انسان اپنے قویٰ سے کام نہیں لیتا، وہ تزقی نہیں کرسکتا یا اُن کو اصل غرض اور مقصود سے ہٹا کر کوئی اور کام اُن سے لیتاہے، جس کے لئے وُہ خلق نہیںہوئے۔ تو بھی وہ ترقی کی راہ میں نہ بڑھیں گے۔
اگر آنکھ کو چالیس روز بندرکھا جاوے گا، تو اس کے دیکھنے کی طاقت سلب ہوجاوے گی۔ پس یہ ضروری امر ہے کہ پہلے قویٰ کو اُن کے فطرتی کا موں پر لگائو، تو اور بھی ملے گا۔ ہمار ااپنا ذاتی تجربہ ہے کہ جہانتک عملی طاقتوں سے کام لیا جاوے، اللہ تعالیٰ اُس پر برکت نازل کرتا ہے۔ مطلب یہی ہے کہ اول عقائد، اخلاق، اعمال کودُرست کرو۔ پھر اھدناالصراط المستقیم کی دُعا مانگو، تو اُس کا اثر کامل طور پر ظاہر ہوگا۔
اُمتِ مرحومہ کہنے کی وجہ
خاص طورپر معلوم ہوتاہے کہ یہ اُمّتِ مرحُومہ ایک ایسے زمانہ میں پیدا ہوئی ہے جس کے لئے آفات پیدا ہونے لگی ہیں۔ انسان کی حرکت گُناہوں اورمعاصی کی طرف ایسی ہے، جیسے کہ ایک پتھر نیچے کو چلا جاتا ہے۔ اُمتِ مرحومہ اس لیے کہلاتی ہے کہ معاصی کا زور ہوگیا۔ جیسے کہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے ظھرالفساد فی البروالبحر(الروم:۴۲) اور دُوسری جگہ فرمایا: یحی الارض بعد موتھا (الروم:۲۰) ان سب آیات پر نظر کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے دو نقشے دکھائے ہیں۔ اوّل الذکر میں تو اس زمانہ کا جب کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے تھے۔ اسی وقت