عام تعلقِ الہٰی سے بڑھ کر خاص تعلق ہوجاتا ہے، جو زمینی اور سطحی نہیں ہوتا۔ بلکہ علوی اور سماوی تعلق ہوتاہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اطمینان جس کو فلاح اور استقامت بھی کہتے ہیں او راھدناالصراط المستقیم (الفاتحہ:۶) میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے اور اسی راہ کی دُعا تعلیم کی گئی ہے اور یہ استقامت کی راہ ان لوگوں کی راہ ہے جو منعم علیھم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے افضال واکرام کے مورو ہیں۔ منعم علیھم کی راہ کو خاص طور پر بیان کرنے سے یہ مطلب تھا کہ استقامت کی راہیں مختلف ہیں۔ مگر وہ استقامت جو کامیابی اور فلاح کی راہوں کا نام ہے۔ وُہ انبیاء علیھم السلام کی راہیں ہیں۔ اس میں ایک اور اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ اھدناالصراط المستقیم میں وُہ دُعا انسان کی زبان، قلب اورفعل سے ہوتی ہے اور جب انسان خدا سے نیک ہونے کی دُعا کرے تو اُسے شرم آتی ہے ، مگر یہی ایک دُعا ہے جو ان مشکلات کودُور کردیتی ہے۔ ایاک نعبدو ایاک نستعین(الفاتحہ:۵) تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی امداد چاہتے ہیں دُعا کرنے سے پہلے تمام قویٰ کا خرچ کرنا ضروری ہے ایاک نستعین پر ایاک نعبدکوتقدم اس لیے ہے کہ انسان دُعا کے وقت تمام قویٰ سے کام لے کر خداتعالیٰ کی طرف آتا ہے یہ ایک بے ادبی اورگُستاخی ہے کہ قویٰ سے کام نہ لے کر اور قانونِ قدرت کے قواعد سے کام نہ لے کر آوے۔ مثلاً کسان اگر تخمریزی کرنے سے پہلے ہی یہ دُعا کرے کہ الہٰی! اس کھیت کو ہرا بھرا کراور پھل پھول لا، تو یہ شوخی اور ٹھٹھا ہے۔ اس کو خداکا امتحان اور آزمائش کہتے ہیں، جس سے منع کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ خدا کو مت آزمائو۔جیسا کہ مسیح علیہ السلام کے مائدہ مانگنے کے قصہ میں اس امر کو بوضاحت بیان کیا گیا ہے۔ اس پر غور کرو اور سوچو۔ یہ سچی بات ہے کہ جو شخص اعمال سے کام نہیں لیتا ، وُہ دُعا نہیں کرتا، بلکہ خداتعالیٰ کی آزمائش کرتا ہے۔ اس لیے دُعا کرنے سے پہلے اپنی تمام طاقتوں کو خرچ کرنا ضروری ہے اور یہی معنی اس دُعا کے ہیں۔ پہلے لاز م ہے کہ انسان اپنے اعتقاد اعمال میں نظر کرے، کیونکہ خداتعالیٰ کی عادت ہے کہ اصلاح اسباب کے پیرایہ میں ہوتی ہے۔ وہ کوئی نہ کوئی ایسا سبب پید اکردیتا ہے کہ جو اصلاح کا موجب ہوجاتاہے۔ وہ لوگ اس مقام پر ذرا خاص غور کریں جو کہتے ہیں کہ جب دُعا ہوئی ، تو اسباب کی کیا ضرورت ہے۔ وہ نادان سوچیں کہ دُعا بجائے خود ایک مخفی سبب ہے جو دوسرے اسباب کو پیداکردیتا ہے اور ایاک نعبدکاتقدم ایاک نستعین پر جو کلمۃ دُعائیہ ہے اس امر کی خاص تشریح کررہا ہے۔ غرض عادۃ اللہ ہم یوُنہیں دیکھ رہے ہیں کہ وہ خلقِ اسباب کردیتا ہے۔ دیکھو پیاس کے بُجھانے کے لئے پانی اور بھوک مٹانے کے لئے کھانامہیاکرتا ہے، مگر اسباب کے ذریعہ۔ پس یہ سلسلۂ اسباب یوُنہی چلتا ہے اور خلقِ اسباب ضرورہوتا ہے، کیونکہ خدائے تعالیٰ کے یہ دو نام ہی ہیں۔ جیسا کہ مولوی محمداحسن صاحب نے ذکر کیا تھا کہ کان اللہ عزیزاً حکیماً (النساء:۱۵۹) عزیزتو یہ