بنادیتا ہے اور ربوبیت تامہ کا ایک مظہر قراردیتا ہے۔ اگر ایس انہ ہو تو کبھی بھی ایک نبی اس قدر مخلوقات کے لئے ہادی اور رہبر نہ ہوسکے۔ رسولِ اُمّی صلی اللہ علیہ وسلم کا بے نظیر مقام چونکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کل دُنیا کے انسانوں کی رُوحانی تربیت کے لئے آئے تھے۔ اس لیے یہ رنگ حضور علیہ السلام میں بدرجہ کمال موجود تھا ور یہ وُہ مرتبہ ہے۔ جس پرقرآن کریم نے متعدد مقامات پر حضور کی نسبت شہادت دی ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے مقابل اور اُسی رنگ میں آل حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کا ذکرفرمایا ہے۔ ماارسلنک الارحمۃ للعالمین(الانبیاء:۱۰۸) اور ایسا ہی فرمایا یاایھالناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا (الاعراف:۱۵۹) قرآن شریف کے دُوسرے مقامات پر غور کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اُمی فرمایا ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے سوائے آپؐ کا کوئی اُستاد نہ تھا۔ مگر بایں ہمہ کہ آپؐ اُمی تھے۔ حضور کے دین میں اُمیوں اوسط درجہ کے آدمیوں کے علاوہ اعلیٰ درجہ کے فلاسفروں اور عالموں کو بھی کردیا۔ قل یاایھاالناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا کے معنے نہایت ہی لطیف طور پر سمجھ میں آسکتے ہیں۔ جمیعاً کے دو معنے ہیں۔ اول تمام بنی نوع انسان یا تمام مخلوق۔ دوم تمام طبقہ کے آدمیوں کے لیے یعنی متوسط ، ادنیٰ اور اعلیٰ درجہ کے فلاسفروں اور ہر ایک قسم کی عقل رکھنے والوں کے لئے ۔ غرض ہر عقل اور مزاج کا آدمی مجھ سے تعلق کرسکتا ہے۔ قرآن کریم کو دیکھ کرحیرت ہوتی ہے کہ اُسی اُمی نے کتاب اور حکمت ہی نہیں بتلائی، بلکہ تزکیۂ نفس کی راہوں سے واقف کیا اور یہانتک کہ ایدھم بروح منہ (المجادلہ:۲۳) تک پہنچادیا۔ دیکھو اور پُر غور نظر سے دیکھو کہ قرآن شریف ہر طرز کے طالب کو اپنے مطلوب تک پہنچاتا ہے اور ہر راستی اور صداقت کے پیاسے کو سیراب کرتا ہے، لیکن خیال تو کروکہ یہ حِکمت اور معرفت کا دَریا، صداقت اور نور کا چشمہ کس پر نازل ہوا؟ اسی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ، جو ایک طرف تو اُمی کہلاتا ہے اور دُوسری طرف وُہ کمالات اور حقائق اُس کے مُنہ سے نکل رہے ہیں کہ دُنیا کی تاریخ میں اس کی نظیر پائی نہیں جاتی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کمال فضل ہے کہ تا لوگ محسوس کریں کہ اللہ تعالیٰ کے تعلقات انسان کے ساتھ کہانتک ہوسکتے ہیں؟ ہماری غرض اس بیان سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تعلقات بہت نازک درجہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ مُقَربین سے الوہیت کا ایساتعلق ہوجاتا ہے کہ مُخلوق پرست انسان اُن کو خداسمجھ لیتے ہیں۔یہ بالکل دُرست اور صحیح ہے کہ ؎ مردانِ خدا، خدانباشند لیکن زخداجُدانباشند خداتعالیٰ اُن کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ بغیر دُعا ئوں کے بھی اُن کی امداد کرتاہے۔ مدعایہ ہے کہ انسان کا اعلیٰ درجہ وہی نفسِ مطمئنہ ہے جس پر مَیں نے گفتگو شروع کی ہے۔ اسی حالت میں اور تمام حالتوں سے ایسے لوازم ہوجاتے ہیں کہ