جیسے ایک گھڑی چلتی ہے۔ اس کے پُرزے تو اُسے چلاتے رہیں گے۔ ابر میں تم تین بجے کی جگہ سات بجے کا وقت کہہ سکتے ہو، مگر گھڑی جو اسی مطلب کے لئے بنائی گئی ہے،وُہ تو ٹھیک وقت بتلائے گی اور خطا نہ کرے گی۔ پس اگر اس سے جھگڑو گے تو بجزخفت کے کیا لوگے؟ اسی طرح سے یادرکھو کہ متقی کا یہ کام نہی کہ وہ اُن لوگوں سے جھگڑے اور مقابلہ کرے جو قرب الہٰی کا درجہ رکھتے ہیں اور دُنیا میں مختلف ناموں سے پکارے جاتے ہیں۔ پس مومن کے مقابلہ کے وقت ڈرو۔ اتقوا کے مصداق بنو۔ ایسا نہ ہو کہ تم جھوٹے نکلو اور پھر اس غلط کاری کے بدترین نتائج بھگتو۔ کیونکہ مومن تو اللہ تعالیٰ کے نُور سے دیکھتاہے اور وُہ نور تم کو نہیں ملا۔ اس لیے تم ٹیڑھے چل سکتے ہو، مگر مومن ہمیشہ سیدھا ہی چلتاہے تم خودہی بتلائو کہ کیا وہ شخص جو ایک تاریکی میں چل رہا ہے، اس آدمی کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ جو چراغ کی روشنی میں جارہا ہے؟ ہرگزنہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ فرمایا ہے۔ ھل یستوی الاعمیٰ والبصیر (الانعام:۵۱) کیا اندھا اور بینا مُساوی ہوسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ پس جب ہم اسباب کو دیکھتے ہیں ، تو پھر کس قدر غلطی ہے کہ ہم اس سے فائدہ نہیں اُٹھاتے۔ غرض یہ کہ مومن کی فراست سے درنا چاہیے اور مقابلۂ مومن کے لیے تیار ہوجانا دانشمند انسان کا کام نہیں ہے اور مومن کی شناخت انہیں آثار و نشانات سے ہوسکتی ہے جو ہم نے ابھی بیان کیے ہیں۔ اسی فراست الہٰیہ کا رُعب تھا جو صحابہ کرام ؓ پرتھا اور ایسا ہی انبیاء علیھم السلام کے ساتھ یہ رُعب بطور نشانِ الہٰی آتا ہے۔ وُہ پوچھ لیتے تھے کہ اگر یہ وحی الہٰی ہے تو ہم مخالفت نہیں کرتے اور وہ ایک ہیبت میں آجاتے تھے۔ متکلم کے قدر کے موافق اس کے کلام میں ایک عظمت اور ہیبت ہوتی ہے۔ دیکھو دُنیاوی حکام کے سامنے جاتے وقت بھی ایک تکلیف اور رُعب ہوتااور خیال ہوتا ہے کہ اُن کے ہاتھ میں قلم ہے۔ اسی طرح پر جو لوگ یہ معلوم کرلیتے ہیں کہ مومن کے ساتھ خدا ہے، وُہ اس کی مخالفت چھوڑ دیتے ہیں اور اگر سمجھ میں نہ آئے تو تنہا بیٹھ کر اُس پرغور کرتے ہیں۔اور مقابلہ کر کے سوچتے ہیں۔ یہ نہایت ضرور ہوتاہے کہ واقفِ راہ اور روشنی والے کے لئے دُوسرے تابع ہوجاویں۔ اور یہی حدیث اتقو فراسۃ المومن کا منشاء اور مفہوم ہے۔ یعنی جب مومن کچھ بیان کرے، تو خداتعالیٰ سے ڈرنا چاہیے، کیونکہ وہ جو کچھ بولت اہے، وہ خداتعالیٰ کی طر ف سے بولتا ہے، مُدّعا یہ ہے کہ مومن جب خداسے محبت کرتا ہے تو الہٰی نور کا اُس پر احاطہ ہوجاتا ہے؛ گر چہ وہ نور اس کو اپنے اندر چھپا لیتاہے اورا س کی بشریت کو ایک حد تک بھسم کرجاتا ہے ۔ جیسے آگ میں پڑا ہوا لوا ہوجاتا ہے،لیکن پھر بھی وہ عبودیت اور بشریت تو ہوتی ہے۔ مگر وہ الوہیت کے رنگ کے نیچے متواری ہوجاتی ہے اوراس کے تمام قویٰ اور اعضاء للّٰہی راہوںمیں خداتعالیٰ کے ارادوں سے پُر ہوکر اس کی خواہشوں کی تصویر ہوجاتے ہیں۔ اور یہی وُہ امتیاز ہے جو اُس کو کروڑ ہامخلوق کی رُوحانی تربیت کا کفیل