کا ایک ٹکڑانظرآتا ہے۔ اُس وقت اُس میں آگ کی سی روشنی بھی ہوتی ہے اور احراق جو ایک صفت آگ کی ہے وُہ بھی اُس میں آجاتی ہے مگر بایں ہمہ یہ ایک بین بات ہے کہ وہ لوُ ہا آگ یا آگ کا ٹکڑا نہیں ہوتا۔
ایک مقام پر اہل اللہ سے ایسے افعال صادرہوتے ہیں جو اپنے اندر الوہیت کے خواص رکھتے ہیںاسی طرح ہمارے تجربہ میں آیا ہے کہ اہل اللہ قرب الہٰی میں ایسے مقام تک جاپہنچتے ہیں جبکہ ربانی رنگ بشریت کے رنگ و بُو کو بتمام وکمال اپنے رنگ کے نیچے متواری کرلتیا ہے اور جس طرح آگ لوہے کو اپنے نیچے ایسا چُھپالیتی ہے کہ ظاہر میں بجز آگ کے اور کچھ نظر ہی نہیں آتا اور ظلی طور پر وہ صفات الہٰیہ کا رنگ اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔
اُس وقت اس سے بُدوں دُعا و التماس ایسے افعال صادر ہوتے ہیں جو اپنے اندر الوہیت کے خواص رکھتے ہیں اور وہ ایسی باتیں مُنہ سے نکالتے ہیں جو جس طرح کہتے ہیں۔ اُسی طرح ہوجاتی ہیں۔ قرآن کریم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اور زبان سے ایسے اُمور کے صدور کی بصراحت بحث ہے۔ جیسا کہ مارمیت اذرمیت ولکن اللہ رمی(الانفال:۱۸) اور ایسا ہی معجزہ شق القمر اور اسی طرح پر اکثر مریضوں اور سقیم الحال لوگوں کو اچھا کردینا ثابت ہے۔ قرآن شریف میں جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ ارشاد ہو اکہ ماینطق عن الھوٰی (النجم:۴) یہ اُس شدید اور اعلیٰ ترین قُرب ہی کی طرف اشارہ ہے اور رُسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال تزکیہ نفس اور قُرب الہٰی کی ایک دلیل ہے۔
حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ عبدمومن کے ہاتھ ، پائوں اور آنکھیں وغیرہ ہوجاتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام اعضاء للّٰہی طاعت کے رنگ سے ایسے ہوجاتے ہیں کہ گویا وہ ایک الہٰی آلہ ہیں، جن کے ذریعہ سے وقتاً فوقتاً افعال الہٰیہ ظہور پذیرہوتے ہیں۔ یا ایک مُصفّا آئینہ ہیں، جس میں تمام مرضیاتِ الہٰیہ بصفائِ تام عکسی طورپر ظہور پکڑتی رہتی ہیں۔ یا یہ کہو کہ اس حالت میں وہ اپنی انسانیت سے بکلی دستبردار ہوجاتے ہیں۔ جیسے جب انسان بولتا ہے ، تو اُس کے دل میں خیال ہوتا ہے کہ لوگ اُس کی فصاحت اور خوش بیانی اور قادُر الکلامی کی تعریف کریں۔ مگر وہ لوگ جو خُدا کے بُلائے بولتے ہیں اور اُن کی رُوح جب جوش مارتی ہے۔ تب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ایک موج اُس پر اثرانداز ہوکر تموّج پیداکردیتی ہے اور اپنی آواز اور تکلم سے وُہ نہیں بولتے۔ بلکہ الہٰی حال اور جوش سے اور ایسا ہی جب وہ دیکھتے ہیں تو جیساکہ قاعدہ ہے کہ دیکھنے میں فکر شامل ہے۔ اُن کی رؤیت اپنے دخل سے نہیں بلکہ خداتعالیٰ کے نور سے اور ان کو ایک ایسی چیز دکھا دیتاہے جو دُوسری پُرغور نظربھی نہیں دیکھ سکتی۔
مومن کی فراست سے ڈرنا چاہیے
جیسے آیا ہے کہ اتقوافراسۃ المؤمن یعنی مومن کی فراست سے بچو، کیونکہ تمہاری آور دہے اور اس کی آمدتمہارا قال ہے، اُس کا حال ۔