پس یہ امربحضورِ دل یادرکھوکہ باوصیف کہ انسان صفائی باطن سے ایسے درجہ پر پہنچتا ہے(جیسا کہ ہمارے نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم اس مرتبہ اعلیٰ پر پہنچے) کہ جہاں اُسے اقتداری طاقت ملتی ہے ، لیکن خالق اور مخلوق میں ایک فرق ہے اور نمایاں فرق ہے۔ اس کو کبھی دل سے دُور کرنا نہ چاہیے۔ انسان ہستی کے عوارض سے آواز نہیں۔ نہ یہاں نہ وہاں۔ کھاتا پیتا ہے۔ معاصی ہوتے ہیں۔ کبائر بھی اور صنعائر بھی اور اسی طرح پر اگلے جہان میں بھی بعض جہنم میں ہوگں گے اور بعض جنت الخلد میں۔ غرض یہ ہے کہ انسان کبھی بھی جامہ عبودیت سے باہر نہیں ہوسکتا، تو پھر میں نہیں سمجھ سکتا کہ وہ کونسا حجاب ہے کہ جب وُہ اُتار کر ربوبیت کا جامہ پہن لیتا ہے۔ بڑے بڑے زاہدوں اور مجاہدوں کے شامل حال عبودیت ہی رہی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عبودیت قرآن کریم کو پڑھ کر دیکھ لو۔ اور تو اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر دُنیا میں کسی کامل انسان کا نمونہ موجود نہیں اور نہ آئندہ قیامت تک ہوسکتا ہے۔ پھر دیکھو کہ اقتداری معجزات کے ملنے پر بھی حضور کے شامل حال ہمیشہ عبودیت ہی رہی اور باربار ان ماانا بشرمثلکم (الکہف:۱۱۱) ہی فرماتے رہے۔ یہاںتک کہ کلمۂ توحید میں اپنی عبودیت کے اقرار کا ایک جزو لازم قرار دیا۔ جس کے بدوں مسلمان مسلمان ہی نہیں ہوسکتا۔ سوچو! اور پھرسوچو!! پس جس حال میں ہادیٔ اکمل کی طرزِ زندگی ہم کو یہ سبق دے رہی ہے کہ اعلیٰ ترین مقامِ قرب پر بھی پہنچ کر عبودیت کے اعتراف کو ہاتھ سے نہیں دیا، تو اور کسی کا تو ایسا خیال کرنا اور ایسی باتوں کا دل میں لانا ہی فضول اور عبث ہے۔ تصرّفات کی دوقسمیں ہاں!یہ سچی بات ہے جس کا کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ اللہ تعالیٰ کے تصرفات بیحدو بے شمار ہیں۔ان کی تعداد اور گنتی ناممکن ہے ۔انسان جس قدر زُہد اور مُجاہدہ کرتا ہے اسی قدر وہ اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا جاتا ہے اور اس نسبت سے ان تصرفات کا ایک رنگ اُس پر جاتا ہے اور تصرفات اللہ کی واقفیت کا دروازہ اس پر کھُلتا ہے۔ اس امر کا بیان کردینا بھی مناسب موقع معلوم ہوتاہے کہ تصرفات بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک باعتبار مخلوق کے اور دُوسرے باعتبار قرب کے ۔ انبیاء علیھم السلام کے ساتھ ایک تصرف تو اسی مخلوق کی نوعیت اور اعتبار سے ہوتاہے جو یاکل الطعام و یمشی فی الاسواق (الفرقان:۸) وغیرہ کے رنگ میں ہوتاہے۔ صحت ، بیماری وغیرہ اُس کے ہی اختیار میں ہوتا ہے اور ایک جدید تصرف قرب کے مراتب میں ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے طور پر اُن کے قریب ہوتاہے کہ اُن سے مخاطبات اور مکالمات شروع ہوجاتے ہیں اور اُن کے دعائوں کا جواب ملتا ہے، مگر بعض لوگ نہیں سمجھ سکتے اور یہانتک ہی نہیں، بلکہ نرے مکالمہ اور مخاطبہ سے بڑھ کر ایک وقت ایسا آجاتا ہے کہ الوہیت کی چادر اُن پر پڑی ہوئی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ اپنی ہستی کے طرح طرح کے نمونے ان کو دکھاتا ہے اور یہ ایک ٹھیک مثال اس قرب اور تعلق کی ہے ۔ کہ جیسے لوہے کو کسی آگ میں رکھ دیں ، تو وہ اثر پذیر ہوکر سرخ آگ