ہے اور بجز اس کے اور کسی چیز میں حی بالذات ہونے کی صفت نہیں پائی جاتی۔ کیا مطلب کہ اللہ تعالیٰ کے بُدوں اور کسی میں یہ صفت نظر نہیں آتی کہ بغیر کسی علت موجبہ کے آپ ہی موجود اور قائم ہویایہ کہ اس عالم کی جو کمال حکمت اور ترتیب محکم وموزوں سے بنایا گیا ہے۔ علت موجبہ ہوسکے۔ غرض اس سے معلوم ہوتاہے کہ خداتعالیٰ کے سوا اور کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو ان مخلوقات عالم میں تغیر و تبدل کرسکتی ہو یا ہر ایک شے کی حیات کا موجب اور قیام کا باعث ہو۔
صوفیاء کے دو مکتبہ ہائے فکر وجودی و شہودی
اس آیت پر نظرکرنے سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ وجودی مذہب حق سے وہ چلا گیا ہے اور اس نے صفات الہٰیہ کے سمجھنے میں ٹھوکر کھائی ہے۔ وہ معلوم نہیں کرسکتا کہ اُس نے عبودیت اور الوہیت کے ہی رشتہ پر ٹھوکر کھائی ہے۔ اصل یہ معلوم ہوتی ہے کہ اُن میں سے جو لوگ اہل کشف ہوئے ہیں اور اُن میں سے اہل مجاہدہ نے دریافت کرنا چاہا، تو عبودیت اور ربوبیت کے رشتہ میں امتیاز نہ کرسکے اور خلق الاشیاء کے قائل ہوگئے۔
قرآن شریف قلب ہی پروارد ہوکر زبان پر آتا ہے اورقلب کا کس قدر تعلق تھا کہ کلام الہٰی کا مورد ہوگیا ۔ اس باریک بحث سے وہ دھوکہ کھاسکتے تھے۔ مگر بات یہ ہے کہ انسان جب غلط فہمی سے قدم اُٹھاتا ہے تو پھر مشکلات کے بھنور میں پھنس جاتاہے۔ جیسا مَیں نے ابھی بیان کیا ہے۔ خداتعالیٰ کے تصرفات انسان کے سات ایسے عمیق درعمیق ہیں کہ کوئی طاقت ان کو بیان نہیں کرسکتی اور اگر ایسا ہوتا، تو اس کی ربوبیت اور صفاتِ کاملہ مندرجہ قرآن نہ پائی جائیں۔ ہمارا عدم ہی اس کی ہستی کا ثبوت ہے اورایک سچی بات ہے کہ جب انسان ہر طرح سے بے اختیار ہونا ہے ، تو اس کا عدم ہی ہوتا ہے۔ اس باریک بھید کو بعض لوگ نہ سمجھ کر خلق الاشیاء ھوعین کہہ اُٹھتے ہیں ۔ وجودی اور شہودی میں سے اوّل الذکر تو ہی ہیں ، جو خلق الاشیاء ھوعین کہتے اور مانتے ہیں اور ثانی الذکر وُہ ہیں جو فناء نظری ے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ محبت میں انسان اس قدر استغراق کرسکتاہے کہ وہ فنافی اللہ ہوسکتا ہے اور پھر اس کے لئے یہ کہنا سزاوار ہوتا ہے ؎
من تن شُرم ، توُ جاں شدی، من تُوشُرم تو من شُدی
تاکس نگوید بعدازیں من دیگرم تُو دیگری
بایں ہمہ تصرفاتِ الہٰیہ کا قائل اُن کو بھی ہونا پڑتا ہے۔ خواہ وجُودی ہوں یا شہودی ہوں۔ اُن کے بعض اور اہل کمال بایزید بسطامی ؒ سے لے کر شبلی ؒ ، ذُوالنون ؒ اور محُی الدین ابن عربی ؒ تک کے کلمات علی العموم ایسے ہیں کہ بعض ظاہر طور پر اور بعض مخفی طور پر اسی طرف گئے ہیں۔مَیں یہ بات کھول کر کہنی چاہتا ہوں کہ ہمار ایہ حق نہیں کہ ہم اُن کے استہزاء کی نظر سے دیکھیں۔ نہیں نہیں۔ وُہ اہلِ عقل تھے۔ بات یوں ہے کہ معرف کا یہ ایک باریک اور عمیق راز تھا۔ اس کا رشتہ ہاتھ سے نکل گیا۔ یہ بات تھی اور کچھ نہیں۔ خداتعالیٰ کے اعلیٰ تصرفات پر انسان ایسا معلوم ہوتا ہے جیسا کہ ہالک الذات۔ اُنہوں نے انسان کو ایسادیکھا اوراُن کے مُنہ سے ایسی باتیں نکلیں اور ذہن اُدھرمنتقل ہوگیا۔