استقامت یا اطمینان یا فلاح کی طرف لطیف اشارہ ہے اور خود مستقیم کا لفظ بتلارہا ہے۔ معجزات یہ سچی بات ہے کہ خداتعالیٰ غیر معمولی طور پر کوئی کام نہیں کرتا۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ خلقِ اسباب کرتاہے خواہ ہم کوان اسباب پر اطلاع ہو یا نہ ہو، الغرض اسباب ضرورہوتے ہیں۔ اس لیے شق القمرینارکو فی برواوسلاما (الانبیاء:۷) کے معجزات بھی خارج از اسباب نہیں، بلکہ وہ بھی بعض مخفی درمخفی اسباب کے نتائج ہیں اور سچے اور حقیقی سائنس پر مبنی ہیں ۔ کوتاہ اندیش اور تاریک فلسفہ کے دلدادہ اُسے نہیںسمجھ سکتے۔ مجھے تو یہ حیرت آتی ہے کہ جس حال میں یہ ایک امر مسلم ہے کہ عدمِ علم سے عدمِ شے لازم نہیں آتا، تونادان فلاسفر کیوں ان اسباب کی بے علمی پر جو اُن معجزات کا موجب ہیں اصل معجزات کی نفی کی جرأت کرتا ہے۔ ہاں ہمارا یہ مذہب ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو اپنے کسی بندے کو اُن اسباب مخفیہ پر مطلع کردے، لیکن یہ کوئی لازم بات نہیں۔ دیکھوانسان اپنے لیے جب گھر بناتا ہے ، تو جہاں ور سب آسائش کے سامانوں کا خیال رکھتا ہے، سب سے پہلے اس امر کو بھی ملحوظ رکھ لیتا ہے کہ اندر جانے اور باہر نکلنے کے لئے بھی کوئی دروازہ بنالے۔ اور اگر زیادہ سازوسامان ہاتھی، گھوڑے، گاڑیاں بھی پاس ہیں تو علیٰ قدرِ مراتب ہر ایک چیز اور سامان کے نکلنے اور جانے کے واسطے دروازہ بناتا ہے نہ یہ کہ سانپ کی بانبی کی طرح ایک چھوٹا سا سوراخ،اسی طرح اللہ تعالیٰ کے فعل یعنی قانونِ قدرت پر ایک وسیع اور پُر غور نظر کرنے سے ہم پتہ لگاسکتے ہیں کہ اس نے اپنی مخلوق کوپیدا کر کے یہ کبھی ہیں چاہا کہ وہ عبودیت سے سرکش ہوکر ربوبیت سے متعلق نہ ہو۔ ربوبیت نے عبودیت کے دُور کرنے کا ارادہ کبھی نہیں کیا۔ سچا فلسفہ یہ ہے جو لوگ عبودیت کو کوئی مستقل اختیار والی شے سمجھتے ہیں، وہ سخت غلطی پر ہیں۔ خُدا نے اُس کوایسا نہیں بنایا۔ ہماری معلومات ، خیالات اور عقلوں کا باہم مساوی نہ ہونا اور ہر امر پرپوری اور کما حقہ روشنی ڈالنے کے ناقابل ہونا صریح اس امر کی دلیل ہے کہ عبودیت بُدوں فیضانِ ربوبیت کے نہیں رہ سکتی۔ ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ ملائک کا حکم رکھتا ہے اگر ایسانہ ہوتا، تو پھر دوا اور اس سے بڑھ کر دُعا کا اُصول ہی بے فائدہ اور بے جان ہوتا۔ زمین، آسمان اور مانی الارض والسموٰات پر نظر کرواور سوچوکہ کیا یہ تمام مخلوقات بذاتہٖ و بنفسہٖ اپنے قیام اور ہستی میں مستقل اختیار رکھتے ہیں یا کسی کے محتاج ہیں؟ تمام مخلوقات اجرامِ فلکی سے لے کر ارضی تک اپنے بناوٹ ہی میں عُبودیت کا رنگ رکھتی ہیں۔ ہر پتے سے یہ پتہ ملتا ہے اور ہر شاخ اور آوازسے یہ صدا نکلتی ہے کہ الوہیت اپنا کام کررہی ہے اس کے عمیق تصرفات جن کو ہم خیال اور قوت سے بیان نہیں کرسکتے، بلکہ کامل طور پر سمجھ بھی نہیں سکتے۔ اپنا کام کررہے ہیں؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ لاالہ الا ھوالحی القیوم (البقرہ:۲۵۶) یعنی اللہ تعالیٰ ہی ایک ایسی ذات ہے جو جامع صفات ِ کاملہ اور ہر ایک نقص سے منزّہ ہے۔ وہی مستحقِ عبادات ہے۔ اسی کا وجود بدیہی الثبوت ہے کیونکہ وہ حی بالذات اور قائم الذات