یہ ہے کہ اے نفس مطمئنہ اللہ کی طرف چلا آ۔ظاہر کے لحاظ سے تو یہ مطلب ہے کہ جان کند فی کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آتی ہے کہ اے مطمئن نفس اپنے رب کی طرف چلا آ۔وہ تجھ سے خوش اور تو اس سے راضی۔چونکہ قرآن مجید کے لئے ظاہر اور باطن دونوں برابر ہیں ۔اس لئے باطن کے لحاظ سے یہ مطلب ہے کہ اے اطمینان تک پہنچے ہوئے نفس اپنے رب کی طرف چلا آ۔یعنی تیری طبعاًیہ حالت ہوچکی ہے کہ تو اطمینان اور سکینت کے درجے پر پہنچ گیا ہے اور تجھ میںاور اللہ تعالیٰ میں کوئی بعد نہیں ہے۔لوامہ کی حالت میں تو تکلیف ہوتی ہے۔مگر مطمئنہ کی حالت میں ایسا ہوتا ہے کہ جیسے پانی اوپر سے گرتا ہے۔اسی طرح پر خدا تعالیٰ کی محبت انسان کے رگ وریشہ میں سرایت کر جاتی ہے۔اور وہ خدا ہی کی محبت سے جیتا ہے۔غیر اللہ کی محبت جو اس کے لئے ایک جلانے اور جہنم کی پیدا کرنے والی ہوتی ہے۔جل جاتی ہے اور اس کی جگہ ایک روشنی اور نور بھر دیا جاتا ہے۔اس کی رضا اللہ تعالیٰ کی رضا اس کا منشاء ہو جا تا ہے۔خدا تعالیٰ کی محبت ایسی حالت میں اس کے لئے بطور جان ہوتی ہے۔جس طرح زندگی کے لئے لوازم زندگی ضروری ہے۔اس کی زندگی کے لئے خدا اورصرف خدا ہی کی ضرورت ہوتی ہے۔دوسرے لفظوں میں اس کا یہ مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ ہی اس کی سچی خوشی اور پوری راحت ہوتا ہے۔ انسانی ہستی کا مدعا نفسِ مطمٔنہ کی یہ نشانی ہے کہ کسی خارجی تحریک کے بدوں ہی وہ ایسی صورت پکڑ جاتا ہے کہ خد اکے بدوں رہ نہیں سکتا اور یہی انسانی ہستی کا مدعا ہے اور ایس اہی ہونا چاہیے۔ فارغ انسان شکار،شطرنج، گنجفہ وغیرہ اشغال اپنے لیے پیدا کرلیتے ہیں۔ مگر جب مطمٔنہ ناجائز اورعارضی ا ور بسااوقات رنج اور کرب پیدا کرنے والے اشغال سے الگ ہوگیا۔ اب الگ ہوکر منقطع عالم اُسے کیوں یادآوے۔ اس لیے خدا ہی سے محبت ہوجاتی ہے۔ یہ امر بھی دل سے محو نہیں ہوناچاہیے کہ محبت دوقسم کی ہوتی ہے۔ ایک ذاتی محبت ہوتی ہے اور ایک محبت اغراض سے وابستہ ہوتی ہے۔ یا یہ کہو کہ اُس کا باعث صرف چند عارضی باتیں ہوتی ہیں۔ جن کے دُور ہوتے ہی وہ محبت سرد ہوکر رجن اور غم کا باعث ہوجاتی ہے۔ مگر ذاتی محبت سچی راحت پیدا کرتی ہے۔ چونکہ انسان فطرتاًخدا ہی کیلئے پیدا ہوا ہے۔ جیسا کہ فرمایا۔ ماخلقت الجن والانس الا یعبدون (الذاریات:۵۷) اس لیے خدا تعالیٰ نے اُس کی فطرت ہی میں اپنے لیے کچھ نہ کچھ رکھا ہوا ہے اور اپنے پوشیدہ اور مخفی درمخفی اسباب سے اُسے اپنے لیے بنایا ہوا ہے۔ پس جب انسان جھوٹی اور نمائشی۔ ہاں عارضی اور رنج پر ختم ہونے والی محبتوں سے الگ ہوجاتا ہے پھر وہ خدا ہی کیلئے ہوجاتا ہے اور طبعاً کوئی بُعد نہیں رہتا اور خدا کی طرف دوڑا چلا آتا ہے۔ پس اس آیت یا ایھا النفس المطمئنۃ میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ خداتعالیٰ کا آواز دینا یہی ہے کہ درمیانی حجاب اُٹھ گیا اور بعدنہیں رہا۔ یہ متقی کا انتہائی درجہ ہوتا ہے۔ جب وہ اطمینان اور راحت پاتا ہے۔ دُوسرے مقام پر قرآن شریف نے اس اطمینان کا نام فلاح اور استقامت بھی رکھا ہے اور اھدناالصراط المستقیم میںاسی