کی لذات دنیا انسان کو سچا اطمینان اور سچی تسلی نہیں دے سکتیں۔بلکہ ایک قسم کی ناپاکی حرص کو پیدا کر کے طلب اورپیاس کو پیدا کرتی ہیں۔استسقا ء کے مریض کی طرح ان کی پیاس نہیں بجھتی۔یہاں تک کہ ان کو ہلاک کر دیتی ہے۔مگر یہاں خدا تعالی فرماتا ہے وہ نفس جس نے اپنا اطمینان خداتعالی میں حاصل کیا ہے۔یہ درجہ بندے کے لیے ممکن ہے۔اس وقت اسکی خوشحالی باوجود مال ومنال کے دنیوی حشمت اور جاہ وجلال کے ہوتے ہوئے بھی خدا ہی میں ہوتی ہے۔یہ زروجواہر،یہ دنیا اور اس کے دھندے،اس کی سچی راحت کا موجب نہیںہوتے۔پس جب تک انسان خدا تعالی ہی میں راحت اور اطمینان نہیں پاتا،وہ نجات نہیں پاسکتا،کیونکہ نجات اطمینان ہے کا ایک مترادف لفظ ہے۔ نفس مطمئنہ کے بغیر انسان نجات نہیں پا سکتا میں نے بعض آدمیوں کو دیکھا اور اکثروں کے حالات پڑھے ہیں جو دنیا میںمال ودولت اور دنیا کی جھوٹی لذتیں اور ہر ایک قسم کی نعمتیں اولاداحفادرکھتے تھے۔جب مرنے لگے اور ان کو اس دنیا کے چھوڑ جانے اور ساتھ ہی ان اشیاء سے الگ ہونے اور دوسرے عالم میں جانے کا علم ہوا تو ان پر حسرتوںاور بے جا آرزوؤں کی آگ بھڑکی اور سر دآہیںمارنے لگے۔پس یہ بھی ایک قسم کا جہنم ہے۔جوانسان کے دل کو راحت اور قرار نہیں دے سکتا،بلکہ اس کوگھبراہٹ اور بے قراری کے عالم میں ڈال دیتا ہے، اس لیے یہ امر بھی میرے دوستوں کی نظر پوشیدہ نہیںرہنا چاہیے کہ اکثر اوقات انسان اہل وعیال اور اموال کی محبت ہاں ناجائز اور بیجا محبت میں ایسا محو ہو جاتا ہے۔اور ااکثر اوقات اسی محبت کے جوش اور نشہ میں ایسے نا جائز کام کر گزرتا ہے،جواس میں اور خداتعالی میں ایک حجاب پیدا کردیتے ہیںاور اس کے لیے ایک دوزخ تیار کر دیتے ہیں۔اس کو اس بات کا علم نہیںہوتا جب وہ ان سب سے یکایک علیحدہ کیا جاتا ہے اس گھڑی کی اسے خبر نہیں ہوتی۔تب وہ ایک سخت بے چینی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔یہ بات بڑی آسانی سے سمجھ آسکتی ہے کہ کسی چیز سے جب محبت ہو،تو اس سے جسائی اور علیحدگی پر ایک رنج اور درناک غم پیدا ہو جاتا ہے۔اب یہ مسئلہ منقولی ہی نہیں بلکہ معقولی رنگ رکھتا ہے۔جو اللہ تعالی نے فرمایا کہ ناراللہ الموقدۃالتی تطلع علی الافئدۃ(الھمزہ:۷۔۸)پس یہ وہی غیر اللہ کی محبت کی آگ ہے جو انسانی دل کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے اور ایک حیر ت ناک عذاب اور درد میں متبلا کر دیتی ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ یہ بالکل سچی اوریقینی بات ہے کہ نفس مطمئنہ کے بدوں انسان نجات نہیںپا سکتا۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے کہ نفس امارہ کی حالت میںانسان شیطان کا غلام ہوتا ہے۔اور لوامہ میں اسے شیطان سے ایک مجاہدہ اور جنگ کرنا ہوتا ہے۔کبھی وہ غالب ہو جاتا ہے۔اور کبھی شیطان،مگرمطمئنہ کی حالت ایک امن اور آرام کی حالت ہوتی ہے۔کہ وہ آرام سے بیٹھ جاتا ہے۔اس لئے اس آیت میں کہ یا ایتھا النفس المطمئنۃ (الفجر:۲۸) یہ صاف معلو م ہوتا ہے کہ اس آخری حالت میں کس قدر استراحت ہوتی ہے؛چنانچہ اس کا ترجمہ