کے پنجے میں گویا گرفتار ہوتا ہے۔اور اس کی طرف بہت جھکتا ہے،لیکن نفس لوامہ کی حالت مین وہ اپنی خطا کاریوں پر ناد م ہوتا ہے ۔ اور شرمسار ہوکر خدا کی طرف جھکتا ہے۔مگر اس حالت میں بھی ایک جنگ رہتی ہے۔کبھی شیطان کی طرف جھکتا ہے۔اور کبھی رحمان کی طرف۔مگر نفس مطمئنہ کی حالت میں وہ عباد الرحمٰن کے زمرے میں داخل ہو جاتاہے۔اور یہ گویا ارتفاعی نقطہ ہے،جس کے مقابل پر نیچے کی طرف نفس امارہ ہے۔اس میزان کے بیچ میں لوامہ ہے۔جو ترازو کی زبان کی طرح ہے۔انخفاضی نقطہ کی طرف اگر زیادہ جھکتا ہے تو حیوانات سے بھی بد تر اور ارذل ہو جاتا ہے اور ارتفاعی نقطہ کی طرف جس قدر رجوع کرتاہے ۔اسی قدر اللہ تعالیٰ کے قریب ہو جاتا ہے اور سفلی اور ارضی حالتوں سے نکل کر علوی اور سماوی فیضان سے حصہ لیتا ہے۔
دنیا میں کوئی چیز منفعت سے خالی نہیں
یہ بات بھی خوب یاد رکھنی چاہیے کہ ہر بات میںمنافع ہوتا ہے۔دنیا میں دیکھ لو۔ اعلی درجہ کی نباتات سے لے کر کیڑوں اور چوہوں تک بھی کوئی چیز ایسی نہیں،جو انسان کے لئے منفعت اور فائدے سے خالی ہو۔یہ تمام اشیاء خوا وہ ارضی ہیں یا سماوی اللہ تعالیٰ کے صفات کے اظلال اور آثار ہیں۔اور جب صفات مین نفع ہی نفع ہے،تو بتلاؤکہ ذات میں کس قدر نفع اور سود ہو گا۔اس مقام پر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ جیسے ان اشیاء سے کسی وقت نقصان اٹھاتے ہیں،تو اپنی غلطی اور نہ فہمی کی وجہ سے۔اس لئے نہیں کہ نفس الامر میں ان اشیاء میں مضرت ہی ہے۔نہیں ، بلکہ اپنی غلطی اور خطا کاری سے۔اسی طرح پر ہم اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کا علم نہ رکھنے کی وجہ سے تکلیف اور مصائب میں مبتلا ہوتے ہیں؛ورنہ خدا تعالیٰ تو ہمہ رحم اور کرم ہے۔دنیا میں تکلیف اٹھانے اور رنج پانے کا یہی ایک راز ہے کہ ہم اپنے ہاتھوں اپنی سوء فہم اور قصور علم کی وجہ سے مبتلائے عصاب ہوتے ہیں ۔پس اس سفاتی آنکھ کے روزن سے ہی ہم اللہ تعالیٰ کو رحیم اور کریم اورحد سے زیادہ قیاس سے باہر نفع ہستی پاتے ہیں۔اور ان منافع سے زیادہ بہرہ ور وہی ہوتا ہے جو اس کے زیادہ قریب اور نزدیک ہو جاتا ہے۔اور یہ درجہ ان لوگوں کو ہی ملتا ہے جومتقی کہلاتے ہیںاور اللہ تعالیٰ کے قرب میں جگہ پاتے ہیں۔جوں جوں متقی خدا تعالیٰ کے قریب ہوتا جاتا ہے۔ایک نور ہدایت اسے ملتا ہے،جو اس کی معلومات میں اور عقل میں ایک خاص قسم کی روشنی پیدا کرتا ہے اور جوں جوں دور ہوتا جا تا ہے ایک تباہ کرنے والی تاریکی اس کے دل ودماغ پر قبضہ کر لیتی ہے۔یہاں تک کہ وہ صم بکم عمی فھم لا یر جعون(البقرہ:۱۹)کا مصداق ہو کر ذلت اور تباہی کا موردن بن جاتا ہے،مگر اس کے بالمقابل نور اور روشنی سے بہرہورانسان اعلی درجہ کی راحت اور عزت پاتاہے؛چنانچہ خدا تعالی نے خود فرماتا ہے۔یاایتھاالنفس المطمئنۃارجعی الی ربک راضیۃمرضیۃ(الفجر:۸۲،۹۲)یعنی اے وہ نفس جو اطمینان یافتہ ہے اورپھر یہ اطمینان خداکے ساتھ پایا ہے۔بعض لوگ حکومت سے بظاہر اطمینان اور سیری حاصل کرتے ہیں۔بعض کی تسیکن اور سیری کا موجب ان کا مال اور عزت ہو جاتی ہے۔اور بعض اپنی خوبصورت اور ہوشیار اولادواحفاد کو دیکھ دیکھ کر بظاہر مطمئن کہلاتے ہیں،مگر یہ لذت انواع وقسام