میرے احباب کے متعلق ہوں گی۔ضرور قبول کرے گا ۔پھر میں نے خیال کیا کہ اس معاملے میں بخل نہیں ہونا چاہیے۔کیوں کہ یہ ایک الہام الہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے متقین کی صفت میں فرمایا ہے ومما رزقنھم ینفقون(البقرہ :۴)پس میں نے اپنے دوستوں کے لئے یہ اصول مقرر کر رکھا ہے کہ خواہ وہ یاد دلائیں یا نہ دلائیں ،کوئی امر خطیر پیش کریںیا نہ کریں۔ان کی دینی اور دنیاوی بھلائی کے لئے دعا کی جاتی ہے۔ قبولیت دعا کی شرائط مگر یہ بات بھی بحضور دل سن لینی چاہیے کہ قبول دعا کے لئے چند شرائط ہوتیں ہیں۔ان میں سے بعض تو دعا کرنے والے کے بارے میں ہوتیں ہیں اوربعض دعا کروانے والے کے بارے مین ۔دعا کروانے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے خوف اور خشیت کو مد نظر رکھے اورر اس کے اغناء ذاتی سے ہر وقت ڈرتا رہے اورصلح کاری اور خدا پرستی اپنا شعار بنا لے۔تقویٰ اور راستبازی سے خداتعالیٰ کو خوش کرے،تو ایسی صورت میں دعا کے لئے باب استجابت کھولا جاتا ہے۔اگر وہ خدا تعالیٰ کو نارا ض کرتا ہے اور اس سے بگاڑ اور جنگ قائم کرتا ہے،تو اس کی شرارتیںاور غلط کاریاں دعا کی راہ میں ایک سد اورچٹان ہو جاتی ہیں۔اور استجابت کا دروزہ اس کے لئے بند ہو جاتا ہے۔ ہماری دعاؤں کو ضائع ہونے سے بچائیں پس ہمارے دوستوں کے لیے لازم ہے کہ وہ ہماری دعاؤںکو ضالٔع ہو نے سے بچاویں اور ان کی راہ میں کوئی روک نہ ڈال دیں جو ان کی نا شالٔستہ حرکات سے پیدا ہو سکتی ہے۔ان کو چاہیے کہ وہ تقوی کی راہ اختیار کریں،کیونکہ تقوی ہی ایک ایسی چیز ہے جس کو شریعت کا خلاصہ کہہ سکتے ہیں اور اگر شریعت کو مختصر طور پر بیان کرنا چاہیںتومغزشریعت تقوی ہی ہو سکتا ہے۔تقوی کے مدارج اور مراتب بہت سے ہیں،لیکن اگر طالب صادقہو کر ابتدائی مراتب اورمراحل استقلال اور خلوص سے طے کرے،تو وہ اس راستی اورطلب صدق کی وجہ سے اعلی مدارج کو پا لیتاہے۔اللہ تعالی فرماتاہے۔انما یتقبل اللہ من المتقین۔(المامئدہ:۲۸) گویا اللہ تعالی متقیوں کی دعائوں کو قبول فرماتاہے۔یہ گویا اس کا وعدہ ہے اور اس کے وعدوں میں تخلّف نہیں ہوتا۔جیسا کہ فرمایاہے:ان اللہ لا یخلف المیعاد(الرعد:۳۲)پس جس حال میں تقوی کی شرط قبولیت دعا کے لیے ایک غیر منفک شرط ہے،تو ایک انسان غافل اور بے راہ ہو کر اگر قبولیت دعاچاہے،تو کیا وہ احمق اور نادان نہیں ہے۔لہذاہماری جماعت کو لازمہے کہ جہاں تک ہو۔ہر ایک ان میں سے تقوی کی راہوں پر قدم مارے،تاکہ قبولیت دعا کا سرور اور حظ حاصل کرے اور زیادتی ایمانی کا حصہ لے۔ نفس انسانی کی تین حالتیں قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ نفس انسانی کی تین حالتیں ہیں۔ایک امارہ،دوسری لوامہ،تیسری مطمئنہ۔نفس امارہ کی حالت میں انسان شیطان