لیکن اگر اللہ تعالیٰ تر بیت اور اصلاح چاہتا ہے تو رد کرنا ہی اجابت دعا ہوتا ہے۔بعض اوقات انسان کسی دعا میں ناکام رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خداتعالیٰ نے دعا رد کر دی؛حالانکہ خدا تعالیٰ اس کی دعا کو سن لیتا ہے۔اور وہ اجابت بصورت رد ہی ہوتی ہے۔کیوں کہ اس کے لئے در پردہ اور حقیقت میں بہتری اور بھلائی اس کے رد ہی میں ہوتی ہے۔انسان چونکہ کوتاہ بین ہے اور دور اندیش نہیں،بلکہ ظاہر پرست ہے،اس لئے اس کو مناسب ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کرے اور وہ بظاہر اس کے مفید مطلب نتیجہ خیز نہ ہو ،تو خدا پر بد ظن نہ ہو کہاس نے میری دعا نہیں سنی۔وہ تو ہر ایک کی دعا کو سنتا ہے۔ادعو نی استجب لکم(المومن:۶۱)فرماتا ہے۔رازور بھید یہی ہوتا ہے کہ داعی کے لئے خیر اور بھلائی رد دعا ہی میں ہوتی ہے۔ دعا کا اصول یہی ہے۔اللہ تعالیٰ قبول دعا میں ہمارے اندیشہ اورخواہش کے تابع نہیں ہو تاہے۔دیکھو بچے کس قدر اپنی ماوں کو پیارے ہوتے ہیں اور وہ چاہتی ہے کہ ان کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ پہنچے،لیکن اگر بچے بے ہودہ طور پر اصرار کریں تو اور رو کر تیز چاقو یا ٓگ کا روشن چمکتا ہوا انگارہ مانگیں،تو کیا ماں باوجود سچی محبت اور حقیقی دل سوزی کے کبھی گوارا کرے گی کہ اس کا بچہ آگ کا انگارہ لے کر ہاتھ جلا لے یا چاقو کی تیز دھار پر ہاتھ مار کر ہاتھ کاٹ لے؟ہر گز نہیں۔اسی اصول سے اجابت دعا کا اصول سمجھا جا سکتا ہے۔میں خود اس امر میںایک تجربہ رکھتا ہوں کہ دعا میں جب کوئی جز و مضر ہوتا ہے تو وہ دعا ہر گز قبول نہیں ہوتی ہے۔یہ بات خوب سمجھ آسکتی ہے کہ ہمارا علم یقین اور صحیح نہیں ہوتا ۔بہر سے کام نہایت خوشی سے مبارک سمجھ کر کرتے ہیںاور اپنے خیال میں ان کا نتیجہ بہت ہی مبارک خیال کرتے ہیں۔لگر انجام کار وہ ہی ایک غم اور ،مصیبت ہو کر چمٹ جاتے ہیں۔غرض یہ کہ خواہشات انسانی سب پر صادر نہیں کر سکتے کہ سب صحیح ہیں۔چونکہ انسان سہو اور نسیان سے مرکب ہوتا ہے،اس لئے ہونا چاہیے اور ہوتا ہے کہ بعض خواہش مضر ہوتیں ہیں۔اور اگر اللہ تعالیٰ اس کو قبول کر لے تو یہ امر منصب رحمت کے صریح خلاف ہے ۔یہ ایک سچا اور یقینی امر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاوں کو سنتا ہے اور ان کو قبولیت کا شرف بخشتا ہے،مگر ہر طب ویابس کو نہیں،کیوں کہ جوش بفس کی وجہ سے انسان انجام اور مال کو نہیں دیکھتا اور دعا کرتا ہے،مگر اللہ تعالیٰ جو حقیقی بہی خواہ اور مآل بین ہے۔ان مضرتوں اورت بد نتائج کو ملحوظ رکھ کر جو اس دعا کے تحت میں بصورت قبول داعی کو پہن سکتے ہیں،اسے رد کر دیتا ہے اور یہ رد دعا ہی اس کے لئے قبول دعا ہوتاہے،پس ایسی دعائین جن میں انسان حوادث اور صدمات سے محفوظ رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ قبول کر لیتا ہے،مگر مضر دعاؤںکو بصورت رد قبول فرما لیتا ہے۔مجھے یہ الہام بار ہا ہو چکا ہے۔اجیب کل دعائک دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ ہر ایک ایسی دعا جو نفس الامر میں نافع اور مفید ہے ،قبول کی جائے گی۔میں جب اس خیال کو اپنے دل میں پاتا ہوں،تو میری روح لذت اور سرور سے بھر جاتی ہے۔جب مجھے یہ اول ہی اول الہام ہوا قریباً پچیس یا تیس برس کا ہوتا ہے،تو مجھے بہت ہی خوشی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ میری دعائیں جو میرے یا