حضرت اقدس امام الزماں کی تیسری تقریر
۳۰ دسمبر۱۸۹۷ء
دوستوں کے لئے ہمدردی اور غم خواری
اصل بات یہ ہے کہ ہمارے دوستوںکا تعلق ہمارے ساتھاعضاء کی طرح کا ہے اور یہ بات ہمارے روز مرہ کے تجربے میں آتی ہے کہ ایک چھوٹے سے چھوٹے عضو مثلاً انگلی ہی میں درد ہو،تو سار ا بدن بے چین اور بے قرار ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ٹھیک اسی طرح ہر وقت اور ہر آن میں ہمیشہ اس خیال اور فکر میں رہتا ہوں کہ میرے دوست ہر قسم کے آرام وآسائش سے رہیں۔یہ ہمدردی اور غم خواری کسی تکلف اور بناوٹ کی رو سے نہیں،بلکہ جس طرح والدہ اپنے بچوں میں سے ہر واحد کے آرام وآسائش کی فکر میں مستغرق رہتی ہے خوا وہ کتنی ہی کیوںنہ ہو ۔اسی طرح میں للہی دلسوزی اور غم خواری اپنے دل میں دوستوں کے لئے پاتا ہوں اور یہ ہمدردی کچھ ایسی اضطراری حالت پر واقع ہوئی ہے کہ جب ہمارے دوستوں میں سے کسی کاخط کسی قسم کی تکلیف یا بیماری کے حالات پر مشتمل پہنچتا ہے،تو طبیعت میں بے کلی اور گھبراہٹ پیدا ہو جاتی ہے اور ایک غم شامل حال ہو جا تا ہے اور جوں جوں احباب کی کثرت ہو جاتی ہے۔اسی قدر یہ غم بڑھتا جا رہا ہے اور کوئی وقت ایسا خالی نہیں رہتا جب کہ کسی قسم کی فکر اور غم شامل حال نہ ہو،کیونکہ اس قدر کثیر التعداد احباب میں کوئی نہ کوئی،کسی نہ کسی غم میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اس کی اطلاع پر ادھر دل میں قلق اور بے چینی پیدا ہو جاتی ہے میں نہیں بتلا سکتا کہ کس قدر اوقات غموں میں گزرتے ہیں۔چونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہستی ایسی نہیں جو ایسے ہموم اور افکار سے نجات دیوے۔اس لئے میں ہمیشہ دعاؤں میں لگا رہتا ہوں اور سب سے مقدم دعا یہی ہوتی ہے کہ میرے دوستوں کو غم اور ہموم سے محفوظ رکھے،کیو ںکہ مجھے تو ان کے ہی افکار اور ر نج غم میں ڈالتے ہیں۔اور پھر یہ دعا مجموعی ہیت سے کی جاتی ہے کہ اگر کسی کو کوئی رنج اور تکلیف پہنچی ہے۔تو اللہ تعالیٰ اس سے اس کو نجات دے۔ساری سر گرمی اور پورا جوش یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کروں۔دعا کی قبولیت میں بڑی بڑی امیدیں ہیں ۔
قبولیت دعا کے اصول
بلکہ میرے ساتھ میرے مولا کریم کا خاص وعدہ ہے کہ اجیب کل دعا ئک مگر میں خوب سمجھتا ہوں کہ کل سے مراد یہ ہے کہ جن کے نہ سننے سے ضرر پہنچ جاتا