تسلی بخش وعدہ ناصرہ میں پیدا ہونے والے ان مریم سے ہوا تھا۔مگر میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ یسوع مسیح کے نام سے آنے والے ابن مریم کو بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں الفاظ میں مخاطب کر کے بشارت دی ہے۔اب آپ سوچ لیں کہ جو میرے ساتھ تعلق رکھ کر اس وعدہ عظیم اور بشارت عظیم میں شامل ہونا چاہتے ہیں کیا وہ وہ لوگ ہو سکتے ہیں۔ جو امارہ کے درجے میں پڑے ہوئے فسق وفجور کی راہوں پر کار بند ہین؟نہیں،ہر گز نہیں۔جو اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کی سچی قدر کرتے ہیں اور میری باتوں کو قصہ کہانی نہیں جانتے،تو یاد رکھو اور دل سے سن لو ۔میں ایک بار پھر ان لوگوں کو مخاطب کرکے کہتا ہوں کہ جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہیںاور وہ تعلق کوئی عام تعلق نہین،بلکہ بہت زبر دست تعلق ہے اور ایسا تعلق ہے کہ جس کا اثر (نہ سرف میری ذات تک)بلکہ اس ہستی تک پہنچتا ہے۔جس نے مجھے بھی اس بر گزیدہ انسان کامل تک پہنچایا ہے جو دنیا میں صداقت اور راستی کی روھ تک لے کر آیا ۔میں تو یہ کہتا ہوں کہ اگر ان باتوں کا اثر میری ذات تک پہنچتا،تو مجھے کچھ بھی فکر اور اندیشہ نہ تھا اور نہ ان کی پرواہ تھی۔مگر اس پر بس نہیں ہوتی۔اس کا اثر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور خدائے تعالیٰ کی بر گزیدہ ذات تک پہنچ جاتا ہے۔پس ایسی صور ت اور حالت میں تم خوب دھیان دے کر سن رکھو کہ اگر اس بشارت سے حصہ لینا چاہتے ہو اور اس کے مصداق ہونے کی آرزو رکھتے ہو اور اتنی بڑی کامیابی(کہ قیامت تک مکفرین پر غالب رہو گے)کی سچی پیاس تمہارے اندر ہے،تو پھر میں اتنا ہی کہتا ہوں کہ یہ کامیابی اس وقت تک حاصل نہ ہو گی۔جب تک لوامہ کے درجہ سے گزر کر مطمئنہ کے مینار تک نہ پہنچ جاو۔
اس سے زیادہ میں اور کچھ نہیں کہتا کہ تم لوگ ایک ایسے شخص کے ساتھ پیوند رکھتے ہو جو مامور من اللہ ہے۔پس اس کی باتوں کو دل کے کانوں سے سنو اور اس پر عمل کرنے کے لئے ہمہ تن تیار ہو جاو۔تا کہ ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ جو اقرار کے بعد انکار کی نجاست میں گر کر ابدی عذاب خرید لیتے ہیں1؎۔فقط