عمل میںآنی مشکل ہے۔الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اخلاق فاضلہ اس طرح کے تھے کہ انک لعلی خلق عظیم(القلم:۵)قرآن میں وارد ہوا۔
ہماری جماعت کو مناسب ہے کہ وہ اخلاقی ترقی کریں
پس ہماری جماعت کو مناسب ہے کہ وہ اخلاقی ترقی کریں،کیونکہ الاستقامۃ فوق الکرامۃ مشہور ہے۔وہ یاد رکھیں کہ اگر کوئی ان پر سختی کرے۔تو حتٰی الواسع اس کا جواب نہایت نرمی اور ملاطفت سے دین۔تشدد اور جبر کی ضرورت انتقامی طور پر بھی نہ پڑنے دیں۔
انسان میں نفس بھی ہے اور اس کی تین قسم ہیں۔امارہ،لوامہ،مطمئنہ۔اماری کی حالت میں انسان جذبات اور بے جا جوش کو سنبھال نہیں سکتا اور اندازہ سے نکل جاتا اور اخلاقی حالر سے گر جاتا ہے۔مگر حالت لوامہ میں سنبھال لیتا ہے۔مجھے ایک حکایت یاد آئی جو سعدی نے بوستاں میں لکھی ہے۔کہ ایک بزرگ کو ایک کتے نے کاٹا ۔گھر آیا،تو گھر والوں نے دیکھا کہ اسے کتے نے کاٹ رکھا ہے۔ایک بھولی بھالی چھوٹی لڑکی بھی تھی۔وہ بولی۔ آپ نے کیوں نہ کاٹ کھایا؟اس نے جواب دیا۔بیٹی!انسان سے کتپن نہیں ہوتا۔اسی طرح سے انسان کو چاہیے کہ جب کوئی شریر گالی دے تو مومن کو لازم ہے کہ اعراض کرے۔نہیںتو وہ کپتن کی مثال صادق آئے گی۔خدا کے مقربوں کو بڑی بڑی گالیاں دی گئیں۔بہت بری طرح ستایا گیا،مگر ان کو اعراض عن الجھلین(الاعراف:۲۰۰)کا ہی خطاب ہوا ۔خود اس انسان کامل ہمارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بہت بری طرح تکلیفیں دی گئیں اور گالیاں بد زبانیاور شوخیاں کی گئیں۔مگر اس خلق مجسم زات نے اس کے مقابلہ میں کیا کیا۔ان کے لئے دعا کی اور چونکہ اللہ نے وعدہ کر لیا تھا کہ جاہلوں سے اعراض کرے گا،تو تیری عزت اور جان کو ہم صحیح وسلامت رکھیں گے۔اور یہ بازاری آدمی اس پر حملہ نہیں کر سکیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضور کے مخالف آپ کی عزت پر حرف نہ لا سکے اور خود ہی زلیل و خوار ہو کر آپ کے قدموں میں گرے۔یا سامنے تباہ ہوئے۔غرض یہ سفت لوامہ کی ہے۔جو انسان کشمکش میں بھی اصلاح کر لیتا ہے۔روزمرہ کی بات ہے۔اگر کوئی جاہل یا اوباش گالی دے یا کوئی شرارت کرے۔جس قدر اس سے اعراض کرو گے،اسی قدر اس سے عزت بچا لو گے۔اور جس قدر اس سے مٹھ بھیڑ اور مقابلہ کرو گے تباہ ہو جاو گے اور ذلت خرید لو گے۔نفس مطمئنہ کی حالت میں انسان لا ملکہ حسنات اور خیرات ہو جاتا ہے۔وہ دنیا اور ماسوی اللہ سے باکلی انقطاع کر لیتا ہے۔وہ دنیا میں چلتا پھرتا اور دنیا والوں سے ملتا جلتا ہے،لیکن حقیقت میں وہ یہاں نہیں ہوتا۔جہاں وہ ہوتا ہے۔وہ دنیا اور ہی ہوتی ہے۔وہاں کا آسمان اور زمین اور ہی ہوتی ہے۔
جماعت احمدیہ کے لئے بشارت عظیم
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے: وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ(آل عمران:۵۶)یہ