کے دروازہ کی زنجیر کھٹکھٹاتی ہے اور یہ سلسلہ ایسا روشن ہے کہ اگر کوئی شخص مستعددل لے کر دو گھنٹے بھی ہماری باتوں کو سنے،تو وہ حق کو پالے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اخلاقی معجزات اب میں چاہتا ہوں کہ چند باتیں کہہ کر اس تقریرکو ختم کر دوں۔ میں تھوڑی دیر کے لئے پھر معجزات کے سلسلے کی طرف عود کر کے کہتا ہوں کہا کہ ایک خوارق تو شق القمر وغیرہ کے علمی رنگ کے ہیں اور دوسرے حقائق المعارف کے تیسار طبقہ معجزات کا اخلاقی معجزات ہیں۔اخلاقی کرامت میں بہت اثر ہوتا ہے۔فلاسفر لوگ معارف اور حقائق سے تسلی نہیں پاسکتے ؛مگر اخلاق عظیمہ ان پر بہت بڑا اور گہرا اثر کرتے ہیں۔حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اخلاقی معجزات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک دفعہ آپ ایک درخت کے نیچے سوئے ہوئے پڑے تھے کہ ناگاہ ایک شور وپکار سے بیدار ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک جنگلی اعرابی تلوار کھینچ کر خود حضور پر آ پڑا ہے اس نے کہا اے محمد!(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)بتا اس وقت تجھے میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے؟آپ نے پورے اطمینان اور سکینت سے جو آپ کو حاصل تھی فرمایا کہ اللہ آپ کا یہ فرمانا عام انسانوں کی طرح نہ تھا ۔اللہ جو خدا تعالیٰ کا ایک ذاتی اسم ہے اور جو تمام جمیع صفات کاملہ کا مستجمع ہے۔ایسے طور سے آپ کے منہ سے نکلا اور دل پر ہی جاکر ٹھہرا ۔کہتے ہیں کہ اسم اعظم یہی ہے اور اس میں بڑی بڑی برکات ہیں،لیکن جس کو وہ اللہ یاد ہی نہ ہو ،وہ اس سے کیا فائدہ اٹھائے گا۔الغرض ایسے طور پر اللہ کا لفظ آپ کے منہ سے نکلا کہ اس پر رعب طاری ہو گیا اور ہاتھ کانپ گیا ۔تلوار گر پڑی۔حضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے وہی تلوار اٹھا کر کہا کہ اب بتلا۔میرے ہاتھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟وہ ضعیف القلب جنگلی کس کا نام لے سکتا تھا۔آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے اخلاق فاضلہ کا نمونہ دکھلایا اور کہا جا تجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ مروت اور شجاعت مجھ سے سیکھ۔اس اخلاقی معجزے نے اس پر ایسا اثر کیا کہ وہ مسلمان ہو گیا ۔ سیر میں لکھا ہے کہ ابو الحسن خرقانی کے پاس ایک شخص آیا ۔راستہ میں شیر ملا۔اور کہا کہ اللہ کے واسطے پیچھا چھوڑ دے۔شیر نے حملہ کیا اور جب کہا ۔ابوالحسن نے واسطے چھوڑ دے،تو اس نے چھوڑ دیا۔شخص مذکورہ کے ایمان میں اس حالت نے سیاہی سی پیدا کر دی اور اس نے سفر ترک کر دیا۔واپس آکر یہ عقدہ پیش کیا۔اس کو ابوالحسن نے جواب دیا کہ یہ بات مشکل نہیں۔اللہ کے نام سے تو واقف نہ تھا۔اللہ کی سچی ہیت اور جلال تیرے دل میں نہ تھا اور مجھ سے تو واقف تھا۔اس لئے میری قدر تیرے دل میں تھی۔پس اللہ کے لفظ میں بڑی بڑی برکات اور خوبیاں ہیں۔بشر طیکہ کوئی اس کو اپنے دل میں جگہ دے اور اس کی ماہیت پر کان دھرے۔ اسی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اخلاقی معجزات میںایک اور معجزہ بھی ہے کہ آپ کے پاس ایک وقت بہت سی بھیڑیں تھیں۔ایک شخص نے کہا۔اس قدر مال اس سے پہلے کسی کے پاس نہیں دیکھا ۔حضور نے وہ سب بھیڑیں اس کو دے دیں۔اس نے فی الفور کہا کہ لاریب آپ سچے نبی ہیں۔سچے نبی کے بغیر اس قسم کی سخاوت دوسرے سے