معدوم کرنے کے لئے مخالفوں نے ناخنوںتک زور لگایا ہے اور لگا رہے ہیں۔بہت مشکل ہو جاتا۔کوئی سال نہیں جاتا جب کہ کوئی نئی صورت اسلام پرحملہ کرنے کی نہیں تراشی جاتی۔اگر کوئی ایجاد یا کل بنائی جاتی ہے۔اس کے اصول کو زیر نظر رکھ کر اسلام پر حملہ کر دیا جاتا ہے۔
آجکل کی ترقی بھی اسلام کا ایک معجزہ ہے
الغرض ایسے فتنے کے وقت میں قریب تھا کہ دشمن اٹھے ہو کر ایک دفعہ ہی مسلمانوں کو بر گشتہ کر دیتے،لیکن اللہ تعالیٰ کے زبر دست ہاتھ نے اسلام کو سنبھالے رکھا۔یہ بھی ایک دلیل ہے اسلا م کی صداقت کی۔آجکل کی ترقی بھی اسلام کا ہی ایک معجزہ ہے۔پس دیکھو کہ مخالفوں نے اپنی ساری طاقتیں اور قوتیں حتٰی کی جان مال بھی اسلام کی نابود کرنے میں صرف کر دیا۔مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے موافق انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون(الحجر:۱۰) یعنی خدا آپ ہی ان نقوش فطرت کو یاد دلانے والا ہیاور وہی خطرہ کے وقت اسے بچا لے گا ۔اسلام کی کشتی خطرہ میں جا پڑ تھی۔پادروں کا حملہ جنھوں نے کروڑ ہا روپیہ خرچ کر کے اور طرھ طرح کے وعدے اور منافع یہاںتک کہ شرم ناک نفسانی حظوظ تک دکھا کر بھی لوگوں کو اسلام سے بد طن کرنے کی کوشش کی اور دوسری طرف اسلامی عقائد کو بد نام کرتے ہیں۔دیکھو!مساک بارش کی وجہ سے استسقاء کی نماز پڑھی جاتی ہے۔اگر کل سے بارش برسانے میں کامیابی ہو جاوے ،جیسا کہ آجکل بعض لوگ امریکہ وغیرہ میں کوشش کرتے ہیں،تو اس طرح پر ایک رکن ٹوٹ جائے گا۔غرض میں کہاں تک بیان کروں ۔ہر طرف سے اسلام پر حملے ہو رہے ہیں اور اس کو بد نام کر نے کی کوشش ،ہاں انتھک کوشش کی جاتی ہے۔مگر ان لوگوں کے منصوبے اور ہتھکنڈے کیا کر سکتے ہیں۔خدا اس کو خود ان حربوں سے بچانا چاہتا ہے۔اور اس زمان ترقی میں اسلام کو بغیر امداد کے نہیں چھوڑا،بلکہ اس نے اسلام کی حفاظت کی اور اپنے سچے رسول اللہ سلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وعدوں کو سچا ثابت کر دیا اور اس کی مبارک پیش گوئیوں کی حقیقت کھول دی اور اس صدی میں ایک شخص پیدا کر دیا۔میں بار بار کہتا ہوں کہ وہ وہی ہے جو تمہارے درمیان بول رہا ہے۔وہ صداقت کی روح اسلام میں پھونک دے گا۔وہ وہی ہے جوگمشدہ صداقتوں کو آسمان سے لاتا ہے اور لوگوں تک پہنچاتا ہے،وہ بد ظنیوں اور ایمانی کمزوری کو دور کرنا چاہتا ہے۔
بد ظنّی
بد طنی ایک ایسا مرض ہے اور ایسی بری بلا ہے جو انسان کو اندھا کر کے ہلاکت کے ایک تاریک کنوین میں گرا دیتی ہے۔بد ظنی ہی ہے جس نے ایک مردہ انسان کی پرستش کرائی۔بد ظنی ہی ہے جو لوگوں کو خدا تعالیٰ کی صفات خلق،رحم رازقیت وگیرہ سے معطل کر کے نعوذ باللہ ایک فرد معطل اور شے بے کار بنا دیتی ہے۔الغرض اس بد ظنی کے باعث جہنم کا بہت بڑا حصہ،اگر کہوں کہ سارا حصہ بھر جائے گا،تو مبالغہ نہیں ۔جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ماموروں سے بد ظنی کرتے ہیں۔وہ خدا تعالیٰ کی نرمتوں اور فضل کو حقارت کی نظرسے دیکھتے ہین۔غرض اگر کوئی ہمارے اس سلسلہ کو جو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا۔انکار کریں تو ہم کو افسوس ہوتا ہے کہ ہائے!ایک روح ہلاکت