نہ کریں۔ اتنا تو کریں کہ اس کی بات ہی ذرا سن لیں۔مگر کیوں سنیں؟وہ گوش شنوا بھی رکھیں ۔صبر اور حسن ظن سے بھی کام لیں۔اگر خداتعالی فضل کے ساتھ زمین کی طرف توجہ نہ کرتا تو اسلام بھی اس زمانہ میں مثل دوسرے مذہبوں کے مردہ اور قصہ کہانی سمجھا جاتا ۔کوئی مردہ مذہب کسی دوسرے کو زندگی نہیں دے سکتا ،لیکن اسلام اس وقت زندگی دینے کو تیار ہے۔لیکن چونکہ یہ سنت اللہ ہے کہ کوئی کام بغیر اللہ تعالیٰ کے اسباب نہیں کرتا۔ہاں یہ مار جدا ہے کہ وہ اسباب ہم کو دکھائی دیں یانہ،لیکن اس میں کوئی کلام نہیں کہ اسباب ضرور ہوتے ہیں۔اسی طرح آسمان سے انوار اترتے ہیں،جو زمین پر پہنچ کر اسباب کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔جب اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے کو تاریکی اور گمراہی میں مبتلا پایا اور ہر طرف سے ضلالت اور ظلمت کی گھنگھور گھٹا دنیا پر چھا گئی۔اس وقت اس تاریکی کودور کرنے اور ضلالت کو ہدایت اور سعادت سے تبدیل کرنے کے لئے ایک سراج منیر فاران کی چوٹیوں پر چمکا،یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم مبعوث ہوئے ۔ موجودہ زمانہ کی حالت اور ضرورت مصلح اور ایسا ہی اس زمانہ میں جس میں ہم رہتے ہیں ایمانی طاقتیں مردہ ہو کر فسق وفجور نے ان کی جگہ لے لی ہے۔لوگوں کے معاملات ایک طرف۔عبادت دوسری طرف۔غرض ہر بات میں فطور آگیا ہے۔صرف یہ آفت ہی اگر ہوتی تو کچھ مضائقہ اور چنداں خطرہ نہ تھا،لیکن ان ساری باتوں کے علاوہ سب سے بڑی آفت جس کا مجھے کئی بار ذکر کرنا پڑا ہے اور جس کا ہربہی خواہ اسلام کا دل محسوس کر چکا ہے یا کر سکتا ہے وہ،وہ زہریلہ اثر ہے جو آجکل کی طبعی طبابت اور ہیت اور جھوٹے فلسفے کے باعث اسلام اور اہل اسلام پر پڑ رہا ہے۔علماء تو اس طرف توجہ نہیں کرتے۔ان کو خانہ جنگیوں اور اندرونی جھگڑوں اور ایک دوسرے کی تکفیر بازی سے فرصت ملے،تو ادھر توجہ کریں۔زاہد اگر اپنی گوشہ نشینیوں میں بیٹھ کر اگر دعاوں سے کام لیتے تو بھی کچھ آثار پیدا ہوتے،مگر وہ پیر پرستی جو از سماع وغیرہ کی بحثوں میں پڑے ہوئے ہیں۔حقیقی صوفی ازم کی جگہ اب چند رسومات نے لے لی ہے۔جن کا قرآن اور سنت سے پتہ نہیں چلتا۔الگرض ہر طرف سے اسلام عرضہ تیغ جہلاو سفہا ہو رہا ہے۔اس وقت میں کہ وہ ضرورتیں جو کسی مصلح اور ریفارمر کی آمد کے لئے لازم ہیں۔پورے انتہائی نقطے تک پہنچ چکی ہے۔ہر ایک شخص بجائے خود ایک نیا مذہب رکھتا ہے۔ان تمام امور اور حالات پر قیاس کر کے اسلام کی عمر خاتمہ کے قریب نظر آتی تھی۔ڈاکٹر اور طبیب جب کسی ہیضہ کے مریض کا بدن برف سا سر دیا اسے سر سام میں مبتلا دیکھے،تو اسے لا علاج بتا کر کھسک آتے ہیں۔اور حالت ردیہ دیکھ کر ڈاکٹر حاذق بھی یاس اور نامیدی ظاہر کر دیتے ہیں۔اب اس وقت اسلام کی حالت پر کچھ شک نہیں کہ اس کی انتہا یاس تک پہنچ گئی تھی،لیکن اگر وہ بھی انسان کے اپنے خیالات کا نتیجہ یا اپنی کوششوں کا ثمرہ ہوتا،تو ان مصائب اور شدائد کے دوران میں کہ ہر طرف سے اس پر زد پڑتی ہے اور اس کی اپنی اندرونی حالت بوجہ نفاق باہی کمزور ہو گئی ہے۔ایسی حالت میں کم از کم اسلام کا قائم رہنا ،جس کے