وعدہ فرمایا کہ:انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون(الحجر:۱۰) قرآن کا نام ذکر رکھنے کی وجہ اب دیکھو۔قرآن کریم کا نام ذکر رکھا گیاہے،اس لئے کہ وہ انسان کی اندرونی شریعت یا د دلاتا ہے۔جب اسم فاعل کو مصدر کی صورت میں لاتے ہیں،تو وہ مبالغہ کا کام دیتا ہے۔جیسا زَیْد عَدْل۔ کیا معنے؟زید بہت عادل ہے۔قرآن کوئی نئی تعلیم نہیں لایا،بلکہ اس اندرونی شریعت کو یاد دلاتا ہے،جوانسان کے اندر مختلف طاقتوںکی صورت میںرکھی ہے۔حلم ہے یثارؔہے، شجاعتؔ ہے، جبرؔہے،غضبؔ ہے،قناعتؔہے وغیرہ۔غرض جو فطرت باطن میں رکھی تھی،قرآن نے اسے یاد دلایا۔جیسے فی کتب مکنون(الواقعہ:۷۹)یعنی صحیفہ فطرت میں کہ جو چھپی ہوئی کتاب تھی اور جس کو ہر ایک شخص نہ دیکھ سکتا تھا۔اسی طرح اس کتاب کا نام ذکر بیان کیا۔ تاکہ وہ پڑھی جاوے تو وہ اندرونی اور روحانی قوتوں اور اس نور قلب کو جو آسمانی ودیعت انسان کے نادر ہے،یاد دلاوے۔غرض اللہ تعالیٰ نے قرآن کو بھیج کر بجائے خود ایک روحانی معجزہ دکھایا۔تا کہ انسان ان معارف اور حقئق اور روحانی خوارق کو معلوم کرے،جن کا اسے پتہ نہ تھا،مگر افسوس کہ قرآن کی اس علت غائی کو چھوڑ کر جوھدی للمتقین (البقرہ:۳)اس کو صرف چند قصص کا مجموعہ سمجھا جاتا ہے اور نہایت بے پروائی اور خود غرضی سے مشرکین عرب کی طرح اساطیر الاولین کہہ کر ٹالا جاتا ہے۔وہ زمانہ تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بعثت کا اور قرآن کے نزول کا۔جب وہ دنیا سے گمشدہ صداقتوں کو یاد دلانے کے لئے آیا تھا۔اب وہ زمانہ آگیا جس کی نسبت رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پیش گوئی کی تھی کہ لوگ قرآن پڑھیں گے،لیکن ان کے حلق سے نیچے قرآن نہیں اترے گا۔سو اب تم ان آنکھوں سے دیکھ رہے ہو کہ لوگ قرآن کیسی خوش الحانی سے اور عمدہ قرات سے پڑھتے ہیں ،لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں گزرتا۔اس لئے جیسے قرآن کریم جس کا دوسرا نام ذکر ہے،اس ابتدائی زمانہ میںانسان کے اندر چھپی ہوئی اور فراموش شدہ صداقتوں اور ودیعتوں کو یاد دلانے کے لئے آیا تھا۔ اس زمانہ میں بھی آسمان سے ایک معلم آیا اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ واثقہ کی رو سے کہ انا لہ لحافظون(الحجر:۱۰) اس زمانہ میں بھی آسمان سے ایک معلم آیا جو آخرین منھم لما یلحقوا بھم(الجمعۃ:۴)کا مصداق اور موعود ہے۔وہ وہی ہے جو تمہارے درمیان بول رہا ہے۔میں پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیش گوئی کی طرف عود کر کے کہتا ہوں کہ آپ نے اس زمانہ کی ہی بابت خبر دی تھی کہ لوگ قرآن کو پڑھیںگے،لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا۔اب ہمارے مخالف۔نہیں نہیں اللہ تعالیٰ کے وعدوں کی قدر نہ کرنے والے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی باتوں پر دھیان نہ دینے والے خوب گلے مروڑ مروڑ کر یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیی(آل عمران:۵۶)اور فلما تو فیتنی(المائدہ:۱۱۸)قرآن میں عجیب لہجے سے پڑھتے ہیں،لیکن سمجھتے نہیں اور افسوس تو یہ ہے کہ اگر کوئی ناصح مشفق بن کر سمجھانا چاہے تو سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔