کاا نکار کر دیتے ہیں ۔سوچنے اور سمجھنے کا مقام ہے کہ معمولی طور پر تو مانتے ہی نہیںاور غیر معمولی طور پر اعتراض کرتے ہیں۔اب یہ عمداً اورصریحاً ا نبیاء علیہ السلام کے وجود کا نکار نہیںتو اور کیا ہے ۔کیا انہی عقلوں اور دانشوں پر ناز ہے ۔کہ فلاسفر کہلا کر دہریہ یا بت پرست ہو گئے۔اللہ تعالیٰ کی مخفی طاقتیں کبھی الہام اور وہی کے سوا اپنا کرشمہ نہیں دکھلا سکتیں ۔وہ وحی اور الہام کے رنگ ہی میں نظر آتی ہیں۔
عقلمند وہ ہے جونبی کو شناخت کرتا ہے
یہ خدائے تعالیٰ کا فضل او راس کی رحمانیت کا تقاضا ہے کہ اس نے دنیا میں اپنے نبی بھیجے۔عقل مند وہ ہے جو نبی کو شناخت کرتا ہے،کیوں کہ وہ خدا کو شناخت کرتا ہے اور بے وقوف وہ ہے جو نبی کا انکار کرتا ہے کیونکہ نبوت کا انکار الو ہیت کے انکار کو مستلزم ہے۔اور جو ولی کو شناخت کرتا ہے ،وہ نبی کو شناخت کرتا ہے۔دوسرے لفظوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ نبی الوہیت کے لئے بطور ایک میخ آ ہنی کے ہے اور ولی نبی کے لئے ہے۔اب ذراٹھنڈے دل سے سوچو کہ اللہ تعالیٰ نے تیرہ سو سال پہلے اس سلسلہ کو دنیا میں ظاہر کیا او آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ذریعے اس کو ظاہر کیا،لیکن آج تیرہ سو سال کے بعد اور اسوقت چودھویں صدی کے بھی پندرہ سال گزر گئے۔اس کو ااریوں،بر ہموؤں،طبیعوں اور دہریوں یا عیسائیوں کے سامنے بیان کرو،تو وہ ہنس دیتے ہیں اور تمسخر میں اُڑا دیتے ہیں۔ایسی مصیبت کے وقت میں کہ ایک طرف علوم جدیدہ کی روشنی،دوسری طرف طبیعیوں میں ایک خاص انقلاب پیدا ہو جانے کے بعد مختلف فرقوںاور مذہبوں کی کثرت ہے ۔ ان امور کا پیش کرنا اور لوگوں سے منوانا بہت ہی پیچیدہ بات ہو گئی تھی اور اسلام اور اس کی باتیںایک قصہ کہانی سمجھی جانے لگی تھیں،لیکن اللہ تعالیٰ نے جو: انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون(الحجر:۱۰) کا وعدہ سے کر اسلام اور قرآن کی حفاظت کا خود ذمہ دار ہوتا ہے۔مسلمانوں کو اس مصیبت سے بچا لیا اور فتنہ میں پڑنے نہ دیا۔پس مبارک ہیں وہ لوگ جو اس سلسلہ کی قدر کرتے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔بات یہ ہے کہ اگر ثبوت نہ ملیں تو یہ بالکل ٹھیک ہے کہ جیسا انسانی طبائع کا خاصہ ہے کہ وہ بد ظنی کی طرف جھٹ رجوع کر لیتی ہے۔تو اندرونی طور پر ہی لوگ ایک قصہ کہانی سمجھ کر قرآن سے دستبردار ہوجاتے ہیں۔مثلاً دیکھو۔اگر اندر کھڑکا ہو،تو باہر والا خواہ مخواہ خیال کرے گا کہ اندر کوئی آدمی ضرور ہے،مگر جب وہ دو چار دن تک دیکھتا ہے کہ اندر سے کوئی نہیں نکلا،تو پھر اس کاخیال مبدل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔تو پھر بدوں ہی وہ اندر جانے کا سمجھ لیتا ہے کہاگر انسان ہوتا،تو اس کو کھانے پینے کی ضرورت پڑتی اور وہ ضرور باہر آتا۔اگر نبوت کے انوار وبرکات جو وحی ولایت کے رنگ میں آتے ہیں۔اس فلاسفی اور روشنی کے زمانہ میں ظاہر نہ ہوتے،تو مسلمانوں کے بچے مسلمانوں کے گھروں میںرہ کراسلام اور قرآن کو ایک قصہ کہانی اور داستان سمجھ لیتے۔اور اسلام سے ان کا کوئی تعلق اور واسطہ نہ رہتا۔اس طرح پر گویا اسلام کو معدوم کرنے کا سلسلہ بند ھ جاتا،مگر نہیں !اللہ تعالیٰ کی غیرت،اس کا ایفائے وعدہ کو جوش کب ایسا ہونے دیتا تھا۔جیسا کہ میںنے ابھی کہا کہ خدا تعالیٰ نے