انسان کو چاہیے کہ اپنی بساط سے بڑھ کر قدم نہ مارے۔ اکثر امراض اور عوارض اسباب اور علامات ڈاکٹروں کو معلوم نہیں تو کیا ایسی کمزوری پر اسے مناسب ہے کہ وہ بساط سے بڑھ کر چلے؟ہر گز نہین۔بلکہ طریق عبودیت یہی ہے کہ سبحانک لا علم لنا(البقرہ:۳۳)کہنے والوں کے ساتھ ہو۔دیکھو ستارے جو اتنے بڑے بڑے گولے ہیں،آسمان میں بغیر ستون کے لٹکتے ہیں اور خود آسمان بغیر کسی سہارے کے سال ہا سال سے اسی طرح چلتے آرہے ہیں۔ چاند ہر روز دھلا دھلایا نکلتا ہے۔آفتاب ہر روز طلوع ہوتا ہے اور ٹھیک رفتار اور روش پر چلتا ہے۔ہمارے کاموں میں ضرور کوئی نہ کوئی غلطی ہوتی ہے،لیکن اللہ تعالیی کے کام دیکھو کہ یہی چاند سورج اپنے ایک ہی طریق پر چلتے ہیں۔اگر ہر روز ان باتوں کو سوچو کہ سورج ہر روز مقررہ طریق پر نکلتا ہے۔جہات کو بتلاتا ہے تو دیوانہ ہو جاو۔دیکھو ہم پر اتنی حالتیں آتیں ہیں اور سورج پر کوئی حالت نہیں آتی۔ایک گھڑی جو دو ہزار روپیہ کی ہو۔اگر وہ دس کی بجائے بارہ اور بارہ کی بجائے دس بجائے ،تو نکمی سمجھی جائے گی۔لیکن خدا تعالیٰ کی قائم کردہ گھڑی ایسی ہے کہ اس میں ذرہ بھر بھی فرق نہیں اور نہ اس کو کسی چابی کی ضرورت ہوتی ہے۔نہ صاف کرنے کی حاجت۔کیا ایسے صانع کی طاقتوں کا شمار کر سکتے ہیں۔انسان حیران ہو جاتا ہے جب یہ دیکھتا ہے کہ ہماری اشیاء کپڑے وغیرہ جو استعمال میں آتے ہیں گھستے رہتے ہیں۔بچے جون اور بوڑھے ہو کر مرتے ہیں،لیکن جو سورج کل طلوع ہوا تھا آج بھی وہی سورج ہے اور ایک لا تعداد زمانہ سے اسی طرح چلا آیا ہے اور چلا جائیگا،مگر اس پر کوئی حالت تحلیل وغیرہ کی یا اثر زمانہ کا نہیں ہوتا۔کس قدر گستاخی ہے کہ ایک کیڑے ہو کر اس رافع ذات الہی پر حملہ کریں اور جلدی سے حکم دیں کہ خدا میںطاقت نہیں۔
انبیاء علیہ السلام کے معجزات کا مقصد
اسلام کا خدا بڑا طاقتور خدا ہے۔کسی کو حق نہیں پہنچتا ہے کہ اس کی طاقتوں پر اعتراض کرے۔ انبیاء علیہ السلام کو جو معجزات دئے جاتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ انسانی تجارب شناخت نہیں کر سکتے اور جب انسان ان خوارق عادت امور کو دیکھتا ہے،تو ایک بار تو یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔لیکن اگر اپنی عقل کا ادعا کرے اور تفہیم الہی کے کوچے میں قدم نہ رکھے تو دونوں طرف سے راہ بند ہو جاتی ہے۔ایک طرف معجزات کا انکار ،دوسری طرف عقل خام کا ادعا۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان دقیق در دقیق کنہہ کے دریافت کرنے کی فکر میں وہ نادان انسان لگ جاتا ہے۔جو معجزات کی تہہ میں ہے اور جس کی فلاسفی زمینی عقل اور سطحی خیلات پر نہیں کھل سکتی۔اس سے وہ انکار کی طرف رجوع کرتے کرتے نبوت کے نفس کا ہی منکر ہو جاتا ہے اور شکوک اور وساوس کا ایک بہت سا ذخیرہ جمع کر لیتا ہے جو اس کی شقوت کا موجب ہو کر رہتا ہے۔کبھی یہ کہہ دیتا ہے کہ یہ بھی ہمارے جیسا ایک آدمی ہے جو کھاتا پیتا اور حوائج انسانی رکھتا ہے۔اس کی طاقتیں ہم سے کیوں کر بڑھ سکتیں ہیں؟اس کی طاقتوں میں روحانیت کی قوت ،اور دعاؤں میں استجابت کا اثر کیوں کر خاص طور پر آجائے گا؟افسوس!اس قسم کی باتیں بناتے اور اعتراض کرتے ہیں۔جس کے سبب جیسا میں نے ابھی کہا نفس نبوت