حقیقت و استعارہ
پھر فرمایا:’’انبیاء علیہم السلام کے آنے سے پہلے کے لوگوں کے حالات دو قسم کے ہوتے ہیں ۔وہ استعارات کو حقیقت پر محمول کرنا چاہتے ہیں۔اور حقیقت
کو استعارہ بنانا چاہتے ہیں۔یہی مصیبت اب ان کو پیش آئی ہے۔یہ کوئی ایسا دجال دیکھنا چاہتے ہیں جس کی آنکھ در حقیقت باہر نکلی ہوئی ہو اور پورے ستر گز کا اس کا گدھا ہو اور آسمان سے حضرت عیسیٰ کبوتر کی طرح منڈلاتے ہوئے اتریں۔یہ کبھی ہونا ہی نہ تھا۔یہودیوں کو بھی حضرت عیسیٰ کے وقت یہی مصیبت پیش آئی تھی۔وہ بھی یہی سمجھے بیٹھے تھے کہ مسیح سے پہلے جیسا کہ ملا کی نبی کی کتاب میں لکھا ہے۔آسمان سے ایلیا اترے گا چنانچہ جب مسیح آیا تو انہوں نے یہی اعتراض کیا ۔مگر مسیح نے ان کو جواب میں یہی کہا کہ ایلیا آچکا ہے۔اور وہ یہی یحیٰی بن زکریا ہے۔یہودی سمجھتے تھے کہ خود ایلیا آئے گا۔اس لئے وہ منکر ہو گئے۔چنانچہ ایک یہودی کی کتاب میں نے منگوائی تھی۔اس میں وہ صاف لکھتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ ہم سے موا ضذہ کرے گا ،تو ہم ملا کے نبی کی کتاب کو کھول کے رکھ دیں گے۔کہ اس میں تو صاف لکھا ہوا ہے کہ ایلیا پہلے آسمان سے آئے گا ۔یہ کہاں لکھا ہے کہ یحیٰی پہلے آئے گا۔اب ہمارا دعویٰ تو حضرت مسیح کی ہائیکورٹ سے فیصلہ ہو گیا کہ جس کے دوبارہ آنے کا وعدہ ہوتا ہے۔اس کی آمد ثانی اک یہ رنگ ہوتا ہے کہ اس کی خو بو اور خواص پر کوئی دوسرا آتا ہے۔یہی دھوکا اور غلطی ہمارے علماء کو بھی لگی ہے۔یہ اصل میں ایک استعارہ ہے۔جس کو انہوں نے حقیقت پر حمل لیا ہے۔ایسا ہی دجال اور اس کے دوسرے لوازمات کی حقیقت بنایا ہے۔
عیسائیوں نے بھی دھوکا کھایا ہے۔حضرت عیسیٰ اپنے بعد فار قلیط کے آنے کی پیش گوئی کی تھی۔عیسائیوں نے روح القدس مراد لی۔حالانکہ اس سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم مراد تھے۔یہ لفظ فار قلیط فارق اور لیط سے مرکب ہے۔لیط شیطان کو کہتے ہیں(اور فارق کے معنی جدا کرنے والا یعنی شیطان کو دور کرنے والا۔ناقل)
غرض یہ بڑی خطر ناک غلطی ہے جو انبیاء علیہم السلام کی بعثت کے وقت لوگ کھاتے ہیں کہ استعارات کو حقیقت پر اور حقیقت کو استعارہ پر محمول کر لیتے ہیں۔‘‘
حضرت ام المومنین کی ایک رویاء
[اس کے بعد حضرت اقدس نے جناب ام المومنین رضی اللہ عنھا کی ایک رویاء سنائی ،جو انہوںنے گزشتہ شب
دیکھی تھی۔اور وہ یہ ہے کہ۔]
آپ نے دیکھا کہ دوپر کے بعد ظہر جس وقت عموماً یکے بٹالہ سے آتے ہیں۔میں ( حضرت اقدسؑ)کچھ اسباب اور دو سردے لے کر گیا ہوں اور ام المومنین کو دئے ہیں کہ مرزا غلام قادر آگئے ہیں اور رحمت اللہ بھی ہے۔اس پر ام المومنین نے حضرت ؑ سے دریافت کیا ۔اس خیال سے کہ ان کو گھر تو دوسری طرف ہے اور ان کی بیوی بھی موجود