وہ تقویٰ کی بنا پر ہے۔بعض اوقات اولاد نہیں ہوتی۔اور بقائے نوع کا خیال انسان میں ایک فطری تقاضا ہے۔اس لئے دوسری شادی کرنے میں کوئی عیب نہیں ہوتا۔بعض اوقات پہلی بیوی کسی خطر ناک مرض میں مبتلا ہو جاتی ہے اور بہت سے اسباب اس قسم کے ہوتے ہیں۔پس اگر عورتوں کوپورے طور پر خدا تعالیٰ کے احکام سے اطلاع دی جائے اور انہیں آگاہ کیا جاوے تو وہ خود بھی دوسری شادی کی ضرورت پیش آنے پر ساعی ہوتی ہیں۔‘‘
ایک رویاء
فرمایا:’’رات میں نے ایک رویا ء دیکھی ہے یعنی ۱۷ نومبر کی رات کو جس کی صبح کو ۱۸ نومبر تھی۔اور وہ رویاء یہ تھی۔میں نے دیکھا کہ ایک سپاہی وارنٹ لے کر آیا ہے اور اس
میرے ہاتھ پر ایک رسی لپیٹی ہے۔تو میں اس سے کہہ رہا ہوں کہ یہ کیا ہے۔مجھے تو اس سے ایک لذت اور سرور آرہا ہے۔وہ لذت ایسی ہے کہ میں اسے بیان نہیں کر سکتا۔پھر اسی اثنا ء میں میرے ہاتھ میں ایک پروانہ دیا گیا ہے کسی نے کہا کہ یہ اعلیٰ عدالت سے آیا ہے،وہ پروانہ بہت ہی خوش خط لکھا ہوا تھا۔اور میرے بھائی مرزاغلام قادر صاحب مرحوم کا لکھا ہوا تھا۔میں نے جب اس پروانہ کو پڑھا تو اس میں لکھا ہوا تھا۔عدالت عالیہ نے اسے بری کیا ہے۔
فرمایا:’’اس سے پہلے کئی دن ہوئے الہام ہوا تھا:
رشن الخبر(رشن نا خواندہ مہمان کو کہتے ہیں)
۱۹؍ نومبر ۱۹۰۱ء
ختم نبوت کا منکر کون ہے؟
فرمایا:’’تعجب کی بات ہے کہ یہ لوگ اس کو دعویٰ جدید کہتے ہیں ۔براھین میں ایسے الہامات موجود ہیں۔جن میں نبی یا
رسول کا لفظ آیا ہے۔چنانچہ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ اور جری اللہ فی حلل الانبیاء وغیرہ ان پر غور نہیں کرتے۔اور پھر افسوس یہ نہیں سمجھتے کہ ختم نبوت کی مہر مسیح اسرائیلی کے آنے سے ٹوٹتی ہے یا خود محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے آنے سے۔ختم نبوت کا انکار وہ لوگ کرتے ہیں جو مسیح اسرائیلی کو آسمان سے اتارتے ہیں اور ہمارے نزدیک تو کوئی دوسرا آیا ہی نہیں نہ نیا نبی پرانا۔بلکہ خود محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی چادر دوسرے کو پہنائی گئی ہے۔اور وہ خود ہی آئے ہیں۔کیا اگر ایک شیشہ میں حافظ صاحب اپنی تصویر دیکھیں تو کیا عورتوں کو پردہ کر لینا چاہیے کہ یہ کون غیر محرم گھس آیا ہے۔آپ ان کو خود مفصل اور واضح خط لکھیں۔‘‘