ہے جن سے حضرت اقدس کو موجودہ صورت میں بالکل انقطاع ہے)کہ پھر ان کے کھانے کا انتظام ہو گا۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ دراصل وہ مر گئے ہیں اور وہ دونوںگھروںکو دیکھنے کے لئے آئے ہیں۔ام المومنین نے کہا کہ رحمت اللہ خاص آپ سے ملنے کو آیا ہے۔پھر منظور علی ایک لڑکا ہے۔وہ ایک کپڑوں کی پوٹلی اس دوسرے گھر میں ہمارے ہی مکان کی سیڑھیوں میں سے ہو کر ایک طرف لے گیا ہے۔جس کو انہوںنے کھولا ہے۔تو وہ سیاہ بوٹی اور سفید زمین کی ایک چھینٹ تھی۔اس کے بعد ان کا اور اسباب بھی ادھر ہی آگیا۔تو معلوم ہو کہ منظور علی ادھر جو پوٹلی لے گیا تھا وہ بھی غلطی سے ہی لے گیا تھا۔دراصل ادھر ہی کی تھی۔پھر آنکھ کھل گئی۔ حضرت اقدس ؑ نے فرمایا: ’’میری اس رویاء کے ساتھ جو کل سنائی تھی ۔اس کے بعض اجزاء ملتے ہیں۔‘‘اور فرمایا کہ’’غلام قادر میں جو قادر کا لفظ آتا ہے۔اس کا تعلق دونوں گھروں سے ہے ۔مگر رحمت اللہ مخصوص اسی گھر سے ہے۔‘‘ ۲۰نومبر ۱۹۰۱؁ء حجتہ اللہ کا مقام فرمایا:’’جب انسان حجتہ اللہ کے مقام پر ہوتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ ہی اس کے جوارح ہوتا ہے اور سچی بات ہے کہ جب خدا تعالیٰ سے انسان پوری صلح کر لیتا ہے اور اپنی مرضی اور خواہشوں اور قوتوں کو اس کے ہی سپرد کر دیتا ہے ،تو خدا س کی ساری طاقتیں ہو جاتا ہے۔اس کی مثال اس لوہے کی سی ہوتی ہے جو آگ میں ڈال دی جاوے اور خوب گرم ہو کر آگ کی طرح سرخ ہو جائے پھر اس میں اس وقت وہی خواص ہوتے ہیں جو آگ میں ہوتے ہیں۔‘‘ خیر الماکرین کے معنے فرمایا:’’میں نے غور کیا ہے کہ مکر کا لفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور مسیح علیہ السلام کے لئے قرآن میں آیا ہے اور میرے لئے بھی یہ لفظ براہین میں آیا ہے۔گویا مسیح علیہم السلام کے قتل کے لئے بھی ایک مخفی منصوبہ کیا گیا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لئے بھی کیا گیا تھا۔اور یہاں بھی منصوبے ہوئے۔اور اپنے طور پر بھی آجکل فرق نہیں کیا جاتا ۔مگر خدا تعالیٰ کا مکر ان سب پر غالب ہے۔مکر مخفی اور لطیف تدبیر کو کہتے ہیں۔لیکھرام نے اپنے خطوط میں یہی لکھا تھا کہ خیرالماکرین سے میرے لئے کوئی نشان طلب کرو۔جب خدا تعالیٰ باریک اسباب سے مجرم کو ہلاک یا ذلیل کرتا ہے اور اپنے بندہ کو جو راستباز ہوتا ہے۔دشمن کے منصوبوں اور شرارتوں سے محفوظ رکھتا ہے اس وقت اس کانام خیرا لماکرین